بنگلورو:
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کئی سابق کھلاڑی میدان سے دور ہونے کے باوجود سوشل میڈیا اور شائقین کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات کچھ تصاویر کسی ریکارڈ یا ٹرافی کی وجہ سے نہیں، بلکہ کھلاڑی کی سادگی اور عاجزی کی وجہ سے وائرل ہو جاتی ہیں۔ ہندستانی ٹیم کے سابق مایہ ناز تیز گیند باز جوگل سری ناتھ کی بنگلورو میٹرو (ناما میٹرو) میں سفر کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر شدید وائرل ہو رہی ہے، جسے شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔
وائرل تصویر میں بھارت کے سابق پیسر جینز اور ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ پہنے، ہاتھ میں ٹرالی بیگ لیے بالکل ایک عام مسافر کی طرح میٹرو کوچ میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی سیکیورٹی کا پروٹوکول ہے اور نہ ہی وی آئی پی کاٹھ باٹھ۔
کرناٹک سے تعلق رکھنے والے جوگل سری ناتھ کو اپنے دورِ عروج میں 'میسور ایکسپریس' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1990ء کے عشرے میں جب بھارتی کرکٹ کو ایک عالمی معیار کے فاسٹ باؤلر کی سخت ضرورت تھی، تب سری ناتھ نے طویل عرصے تک بھارتی پیس اٹیک کی قیادت کی۔انہوں نے ہندستان کے لیے 67 ٹیسٹ اور 229 ون ڈے میچز کھیلے اور اپنی تیز رفتار اور نظم و ضبط سے عالمی کرکٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ تاہم، ریٹائرمنٹ کے سالوں بعد آج ان کا چرچہ کسی باؤلنگ اسپیل کے لیے نہیں، بلکہ ان کی عام اور سادہ زندگی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کی اس عاجزی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کی اس نسل کے کرکٹرز—جیسے انیل کمبلے، راہول ڈراوڈ، وینکیٹش پرساد اور جوگل سری ناتھ—نے عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود ہمیشہ زمین سے جڑی زندگی گزاری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سری ناتھ کا یہ سادہ انداز منظرِ عام پر آیا ہو۔ اس سے قبل میسور ریلوے اسٹیشن سے بھی ان کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ کندھے پر بیگ لٹکائے عام مسافروں کی طرح ٹرین کا انتظار کرتے نظر آئے تھے۔
اگرچہ بنگلورو میٹرو کی اس تازہ تصویر کی تاریخ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لیکن کرکٹ شائقین کے لیے یہ تصویر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عظیم مقام حاصل کرنے کے بعد بھی انسان کی سادگی ہی اس کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔
ہندوستانی ٹیم کے سابق مایہ ناز تیز گیند باز جوگل سری ناتھ کی بنگلورو میٹرو (ناما میٹرو) میں سفر کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر شدید وائرل ہو رہی ہے، جسے شائقین کی جانب سے بے حد ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments