اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ’اہم اور سنگین خطرے‘ کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے صاحبزادے یائر نیتن یاہو کو فوری طور پر امریکہ سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی داخلی سکیورٹی ایجنسی شِن بیت کے مطابق انٹیلی جنس نے یائر نیتن یاہو کے خلاف ممکنہ حملے کی تصدیق کی، جس کے بعد انھیں ان کی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ ہنگامی طور پر واپس بلایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق شِن بیت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یائر نیتن یاہو کو نقصان پہنچانے کا واقعی ایک سنگین خطرہ موجود تھا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ انھیں فوراً اسرائیل منتقل کیا جائے۔‘
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی جب اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ یائر نیتن یاہو فلوریڈا سے فوری طور پر اسرائیل روانہ ہوئے ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کو ان کے خلاف ایک ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم شِن بیت نے خطرے کی نوعیت یا اس کے ذمہ دار کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
چند روز قبل بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے ان کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے نام ظاہر نہیں کیا تھا۔‘ شِن بیت کی تازہ تصدیق سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ یائر نیتن یاہو کی جانب تھا۔
دوسری جانب ایرانی حکام پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بیٹے یا دیگر افراد کے قتل کی کسی بھی منصوبہ بندی کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ شِن بیت کے یائر نیتن یاہو سے متعلق تازہ بیان پر تہران نے تاحال کوئی سرکاری ردِعمل نہیں دیا۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ’اہم اور سنگین خطرے‘ کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے صاحبزادے یائر نیتن یاہو کو فوری طور پر امریکہ سے اسرائیل منتق...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments