نئی دہلی:
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اجل بھویان نے ایک تقریب کے دوران اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آئین میں اعلیٰ ترین عدالت میں "ممتاز قانون داں" کو جج مقرر کرنے کی واضح شق موجود ہونے کے باوجود 76 سال سے زائد عرصے میں اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں: یا تو حکومت اور کولجیم نے ہندوستانی قانونی تعلیم و تحقیق میں اتنی صلاحیت محسوس نہیں کی، یا پھر کبھی اس آئینی شق کا سنجیدگی سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔
جسٹس بھویان نیشنل لا یونیورسٹی ، دہلی کے 13ویں دیلاؤ اسناد کے موقع پر ایل ایل ایم کے طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔
جسٹس بھویان نے نشاندہی کی کہ آئین ہند کی دفعہ 124(3) کے تحت صدرِ جمہوریہ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی "ممتاز قانون داں" کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کر سکیں۔ تاہم، آزادی سے لے کر آج تک کسی بھی قانون کے پروفیسر یا تعلیمی ماہر (Academician) کو سپریم کورٹ کا جج نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے آئین ساز اسمبلی کی بحثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایچ وی کامتھ اور ایم اننت شائنم آئینگر جیسے قائدین نے اس بات کی حمایت کی تھی کہ ججوں کی تقرری کا دائرہ کار صرف وکلاء اور ججوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں تعلیمی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ اس وقت اننت شائنم آئینگر نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فیلکس فرینک فرٹر کو امریکی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا، اور ہندستان میں بھی لاء فیکلٹی کے ڈی این یا پروفیسر کو اس عہدے پر لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے دنیا کی دیگر بڑی جمہوریتوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور کینیا کی آئینی عدالتوں میں ماہرینِ تعلیم کو جج مقرر کرنے کی روایت رہی ہے:
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اجل بھویان نے ایک تقریب کے دوران اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آئین میں اعلیٰ ترین عدالت میں "ممتاز قانون داں" کو جج مقرر کرنے کی واضح شق موجود ہون...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments