Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

"سپریم کورٹ میں ممتاز قانون داں کیوں نہیں؟" — جسٹس اجل بھویان نے کولجیم اور حکومت کو آئینے میں دکھایا

Admin
By Admin
Aug 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KERALA MEIN WEDDING PARTY KI BUS PALTI, CCTV MEIN HAADSA QAID

"سپریم کورٹ میں ممتاز قانون داں کیوں نہیں؟" — جسٹس اجل بھویان نے کولجیم اور حکومت کو آئینے میں دکھایا
"سپریم کورٹ میں ممتاز قانون داں کیوں نہیں؟" — جسٹس اجل بھویان نے کولجیم اور حکومت کو آئینے میں دکھایا — August 30, 2026
نئی دہلی:
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اجل بھویان نے ایک تقریب کے دوران اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آئین میں اعلیٰ ترین عدالت میں "ممتاز قانون داں" کو جج مقرر کرنے کی واضح شق موجود ہونے کے باوجود 76 سال سے زائد عرصے میں اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں: یا تو حکومت اور کولجیم نے ہندوستانی قانونی تعلیم و تحقیق میں اتنی صلاحیت محسوس نہیں کی، یا پھر کبھی اس آئینی شق کا سنجیدگی سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔

جسٹس بھویان نیشنل لا یونیورسٹی ، دہلی کے 13ویں دیلاؤ اسناد کے موقع پر ایل ایل ایم کے طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔
جسٹس بھویان نے نشاندہی کی کہ آئین ہند کی دفعہ 124(3) کے تحت صدرِ جمہوریہ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی "ممتاز قانون داں" کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کر سکیں۔ تاہم، آزادی سے لے کر آج تک کسی بھی قانون کے پروفیسر یا تعلیمی ماہر (Academician) کو سپریم کورٹ کا جج نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے آئین ساز اسمبلی کی بحثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایچ وی کامتھ اور ایم اننت شائنم آئینگر جیسے قائدین نے اس بات کی حمایت کی تھی کہ ججوں کی تقرری کا دائرہ کار صرف وکلاء اور ججوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں تعلیمی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ اس وقت اننت شائنم آئینگر نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فیلکس فرینک فرٹر کو امریکی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا، اور ہندستان میں بھی لاء فیکلٹی کے ڈی این یا پروفیسر کو اس عہدے پر لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے دنیا کی دیگر بڑی جمہوریتوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور کینیا کی آئینی عدالتوں میں ماہرینِ تعلیم کو جج مقرر کرنے کی روایت رہی ہے:

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اجل بھویان نے ایک تقریب کے دوران اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آئین میں اعلیٰ ترین عدالت میں "ممتاز قانون داں" کو جج مقرر کرنے کی واضح شق موجود ہون...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn