اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی قصبے قُصرہ پر حملے کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ تین ہفتوں سے جاری کشیدگی کی تازہ ترین مثال ہے۔
نیتن یاہو نے ایک غیر معمولی بیان میں ان حملوں کو ’جرائم پر مبنی تشدد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کارروائیاں ’چند قانون شکن عناصر‘ کی جانب سے کی گئیں، جو نہ صرف قانون کی پابندی کرنے والی یہودی برادری کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ فوج کے کام میں رکاوٹ اور اسرائیل کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔‘
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’سرخ لکیر عبور کرنا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’یہ اسرائیل کی شہرت پر ’داغ‘ ہے۔‘
انھوں نے حکومت، سکیورٹی اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور ذمہ داروں کو مکمل سزا دی جائے۔
قُصرہ کے رہائشیوں اور اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں آبادکاروں نے قصبے پر دھاوا بول کر پتھراؤ کیا اور ایک گھر میں گھس کر خود کو اندر بند کر لیا، جبکہ اندر فلسطینی موجود تھے۔
قریب ہی واقع گاؤں جالود میں این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ نقاب پوش آبادکاروں نے اس کے عملے اور ایک فلسطینی خاتون پر حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’اس نے علاقے میں ’اسرائیلی شرپسندوں کی آمد اور پرتشدد جھڑپوں‘ کی اطلاعات کے بعد فوجی اور بارڈر پولیس اہلکار بھیجے، جن میں فلسطینیوں اور عام شہریوں پر پتھراؤ بھی شامل تھا۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی قصبے قُصرہ پر حملے کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ تین ہفتوں سے جاری کشیدگی کی تازہ تری...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments