ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے میناب سکول سانحے کو ملک کے لیے ایک ’دائمی زخم‘ قرار دیتے ہوئے عوام اور جدید فنون کے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے سے متاثرہ فن پاروں کی نمائش ضرور دیکھیں۔
سنیچر کی شب انسٹاگرام پر جاری بیان میں عراقچی نے بتایا کہ انھوں نے ایک روز قبل نمائش کا دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ’ان تصویروں میں میناب کے بچوں کا درد اور معصومیت جھلکتی ہے، جہاں رنگ لفظوں کی جگہ بولتے ہیں اور کینوس وہ کچھ بیان کرتا ہے جو زبان میں نہیں کہا جا سکتا۔‘
عراقچی نے کہا کہ ’ان رنگوں اور تصویروں کے پیچھے ایران کے دشمنوں کی جانب سے اس سرزمین کے معصوم بچوں پر کیے گئے جرم کی تلخ یاد موجود ہے۔‘ انھوں نے زور دیا کہ ’یہ سانحہ نہ وقت کے ساتھ مٹ سکتا ہے اور نہ ہی سوگوار قوم کی یادداشت سے محو ہوگا۔‘
وزیرِ خارجہ کے مطابق فنکاروں نے اپنے کام کے ذریعے اس سانحے کی یاد کو محفوظ رکھنے اور متاثرین کے درد کو فراموش نہ ہونے دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو شجرۂ طیبہ پرائمری سکول کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جو ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کے پہلے دن پیش آیا۔ حملے میں تقریباً 170 افراد جن میں طلبہ، اساتذہ اور والدین شامل تھے ہلاک ہوئے۔
عباس عراقچی نے ایرانی عوام اور جدید ایرانی فن کے شائقین کو نمائش کے دورے کی دعوت دی ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے میناب سکول سانحے کو ملک کے لیے ایک ’دائمی زخم‘ قرار دیتے ہوئے عوام اور جدید فنون کے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے سے متاثرہ فن پاروں کی نم...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments