National
27 سو کی دوا کی 27 ہزار قیمت ، دوائیوں کے گورکھ دھندھے پر سپریم کورٹ آگ بگولا
کیا کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے لڑنے والے مریضوں کو کھلے عام دھوکہ دیا جا رہا ہے؟ سپریم کورٹ نے کینسر کی ضروری ادویات کی قیمتوں کے گھپلے پر بہت سخت مؤقف اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے دن دہاڑے ڈاکہ قرار دیا ہے، کیونکہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں انہیں ریٹیلرس کو صرف 2,700 میں فروخت کرتی ہیں، مریضوں سے اس کی ایم آر پی 27,000 تک کی وصول کر رہی ہیں۔ اس سنگین معاملے میں حکام کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ نے صاف طور پر کہا ہے کہ ہسپتال کم قیمتوں پر ادویات خرید رہے ہیں اور حکومت سے ری ایمبریسمنٹ لیتے ہیں، جو براہ راست عام ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر متعلقہ حکام کی خاموشی پر بھی تند و تیز سوالات اٹھائے۔