نئی دہلی: اتر پردیش کی معروف آئی اے ایس افسر دیویا مِتل نے 13 سال کی سرکاری خدمت کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنے انتظامی سفر، عوام کے ساتھ وابستگی اور ان تجربات کا ذکر کیا جنہوں نے ان کی زندگی کو نئی سمت دی۔ دیویا مِتّل نے بتایا کہ ایک عام پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے محنت کے بل پر IIT دہلی اور IIM بنگلور سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد لندن میں ملازمت بھی کی، لیکن بیرونِ ملک کامیاب زندگی کے باوجود انہیں کچھ کمی محسوس ہوتی رہی۔
دیویا مِتّل نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ عام ماحول میں پرورش پاتے ہوئے انہوں نے ایک اچھے اور کامیاب مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔ دن رات محنت کرکے انہوں نے IIT دہلی اور IIM بنگلور سے تعلیم حاصل کی اور لندن میں ملازمت حاصل کی، لیکن ’’سب کچھ‘‘ حاصل کرنے کے باوجود انہیں کچھ ادھورا محسوس ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تعلیم، خود اعتمادی اور دنیا میں کہیں بھی سر اٹھا کر چلنے کی طاقت اسی ملک کی مٹی کا قرض تھی۔ اسی قرض کو چکانے کے ارادے سے وہ بھارت واپس آئیں اور انہیں آئی اے ایس افسر بننے کا موقع ملا۔
دیوریا اور مرزاپور نے بہت کچھ سکھایا
اپنی 13 سالہ ملازمت کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے دیویا مِتّل نے کہا کہ دیوریا نے انہیں سکھایا کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا کوئی انتخاب نہیں بلکہ فرض ہے۔ مرزاپور نے انہیں یہ سبق دیا کہ ’’ناممکن‘‘ کوئی حقیقت نہیں بلکہ محض ایک رائے ہے۔ انہوں نے ماں وندھیہ واسنی کے چرنوں میں بیٹھ کر حاصل ہونے والے تجربے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ طاقت کسی عہدے سے نہیں بلکہ ان کی کرپا اور لوگوں کے اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ دیویا مِتّل کے مطابق، ان کی سب سے بڑی سیکھ یہ رہی کہ اپنے لیے دیکھے گئے خواب تو پورے ہو چکے تھے، لیکن اب اپنے لوگوں کے لیے دیکھے گئے خوابوں کو جینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر کا حقیقی سکون اس وقت محسوس ہوا جب کسی خاندان کو پہلی مرتبہ زمین کا حق ملا، کسی معذور شخص کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملا یا کسی کسان کے کھیت تک پانی پہنچا۔
آئی اے ایس افسر نے کہا کہ عوام کے مسائل کے ساتھ چلتے ہوئے انہوں نے سیکھا کہ ہر سرکاری فائل کے پیچھے ایک انسان موجود ہوتا ہے اور اس کی عزت و وقار برقرار رکھنا ہی حقیقی انصاف ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ یہ سمجھتی تھیں کہ وہ دوسروں کو کچھ دینے آئی ہیں، لیکن حقیقت میں انہیں ہی سب سے زیادہ ملا۔ عوام کی محبت، احترام اور اعتماد نے ان کا حوصلہ بڑھایا، یہاں تک کہ تھکن یا مشکل وقت میں بھی لوگوں کا یقین انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا رہا۔
اپنے استعفے کے موقع پر دیویا مِتّل نے ایک یادگار واقعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے لہوریا دہ کی پہاڑی کی ایک بزرگ خاتون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے گاؤں میں پہلی مرتبہ پانی پہنچا تو اس خاتون نے کچھ نہیں کہا، صرف کانپتے ہاتھوں سے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں دعائیں دیں۔ دیویا مِتّل نے لکھا کہ عہدہ آج چھوٹ گیا ہے، لیکن بزرگ خاتون کا وہ لمس زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گا۔ انہوں نے اپنے 13 سالہ سفر میں ساتھ دینے والے ساتھیوں، افسران اور ملازمین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب نے کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
اتر پردیش کی معروف آئی اے ایس افسر دیویا مِتل نے 13 سال کی سرکاری خدمت کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنے انتظامی سفر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments