ہریانہ میں بجلی شعبہ کی مبینہ نجکاری (پرائیویٹائزیشن) کے خلاف بجلی محکمہ کے تقریباً 40,000 ملازمین اور انجینئرز کی ہڑتال سے بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس ہڑتال کے باعث گروگرام، فرید آباد، نوح سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں بجلی کی تخفیف، پانی کی فراہمی اور صنعتوں پر بڑے پیمانے پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے مقامی لوگ پریشان ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کمپنیوں میں تالا لٹکا دکھائی دے رہا ہے۔ پانی کی سپلائی متاثر نہ ہونے سے بھی کئی فیکٹریوں میں چھٹی کر دی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گروگرام میں بدھ کی دیر شب سے ہی بڑے پیمانے پر بجلی کی تخفیف کی خبریں ہیں۔ گروگرام میں 12 گھنٹوں کے دوران 3,000 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ نوح ضلع میں بجلی گل ہوئے تقریباً 24 گھنٹے ہو چکے ہیں۔ بجلی کی تخفیف سے عام لوگ متاثر ہیں اور مویشیوں کے لیے بھی پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ بجلی کے آلات شو پیس بن کر رہ گئے ہیں اور پولیس بجلی کے دفاتر کی حفاظت کر رہی ہے۔ سونی پت میں بھی بجلی ملازمین کی ہڑتال کا اثر دکھائی دے رہا ہے اور علاقے میں بجلی غائب ہے۔
اس دوران بجلی کی کٹوتی کو لے کر ریواڑی میں دیہی باشندوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ انہوں نے قومی شاہراہ 352 کو جام کر دیا۔ بجلی چلے جانے کے بعد پلہاواس اور آس پاس کے گاؤں کے لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ ہڑتال ایک روزہ نہیں ہے، بلکہ بجلی ملازمین نجکاری کے خلاف 3 روزہ ہڑتال پر ہیں، جس کے باعث 72 گھنٹوں تک بجلی کی خدمات متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر کانگریس رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہریانہ کے سی ایم ہیں نائب، ریاست میں بجلی ہے غائب۔‘‘
بہرحال، گروگرام کے ڈپٹی کمشنر نے بجلی سے متعلق شکایات کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) گروگرام نے ہیلپ لائن نمبر سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے جاری کیے ہیں۔
ہریانہ میں بجلی شعبہ کی مبینہ نجکاری (پرائیویٹائزیشن) کے خلاف بجلی محکمہ کے تقریباً 40,000 ملازمین اور انجینئرز کی ہڑتال سے بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس ہڑتال کے باعث گروگرام، فرید...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments