چین کے علاقے تبت میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں کم سے کم 16 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مکانات بھی منہدم ہوئے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات آنے والے زلزلے کی شدید سات اعشاریہ ایک تھی۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تبت کے شمالی شہر ناگچو میں کم سے کم تین سو 39 مکانات منہدم ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ ملبے کے نیچے لوگ دبے ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں ایک ہزار چھ سو سے زائد کارکن شریک ہیں جبکہ متاثرین کے لیے ایک ہزار عارضی مکانات، قریباً تین ہزار خیمے اور دوسرا سامان بھجوایا گیا ہے جس میں فولڈنگ بیڈز، کھانے پینے کی اشیا، ٹارچز اور سردی سے بچنے کے کپڑے وغیرہ بھی موجود ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔ اس کا مرکز ناگچو شہر سے 191 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا جبکہ زمین میں اس کی گہرائی 18 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق بڑے زلزلے کے بعد اب چار اعشاریہ تین اور پانچ اعشاریہ دو کے کم سے کم سات آفٹرشاکس بھی آ چکے ہیں۔
چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق زلزلے سے بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا جبکہ ریلوے حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ علاقے سے گزرنے والی ٹرینیں روک دی ہیں۔
زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی جس کے بعد نیشنل ہائی وے 317 کا ایک حصہ بند کردیا گیا۔ اس سڑک پر صرف امدادی اور سرکاری گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔
چینی میڈٰیا کے مطابق آئندہ تین روز کے دوران زلزلے سے متاثرہ علاقے میں وقفے وقفے سے برف باری کا بھی امکان ہے۔
یہ پچھلے پانچ سال کے دوران اس علاقے میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے زلزلہ متاثرین کو بچانے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
ناگچو شہر تبت کے دارالحکومت لہاسا سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال میں واقع ہے۔
چین کے علاقے تبت میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں کم سے کم 16 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مکانات بھی منہدم ہوئے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments