Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

آر ٹی آئی سے انکشاف، کابینہ سیکرٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے خلاف الیکشن کمشنروں سندھو اور جوشی کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی

Admin
By Admin
Oct 23, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

آر ٹی آئی سے انکشاف، کابینہ سیکرٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے خلاف الیکشن کمشنروں سندھو اور جوشی کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی
آر ٹی آئی سے انکشاف، کابینہ سیکرٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے خلاف الیکشن کمشنروں سندھو اور جوشی کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی — October 23, 2026
کابینہ سکریٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے ایک افسر کے خلاف 2 الیکشن کمشنرز (سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ بات ایک آر ٹی آئی کے جواب سے سامنے آئی ہے۔ جواب کے مطابق سکریٹریٹ نے کہا تھا کہ یہ شکایات انہوں نے (الیکشن کمشنرز نے) اپنی ذاتی حیثیت میں کی تھیں اور چونکہ پورے الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی، اس لیے فی الحال کوئی کارروائی کرنا نامناسب ہو سکتا ہے۔

آر ٹی آئی کارکن کموڈور (ریٹائرڈ) لوکیش کے بترا کو حق اطلاعات قانون کے تحت دائر درخواست کے جواب میں موصول ہونے والے خط سے پتہ چلا ہے کہ الیکشن کمشنرز سندھو اور جوشی نے 29 جولائی کو ملک کے اعلیٰ افسر ٹی وی سومناتھن کو 2 الگ الگ خطوط بھیجے تھے۔ یہ خطوط سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ (آئی اے ایس) کے کام کاج سے متعلق تھے، جنہیں کابینہ کی تقرری کمیٹی نے 2 ستمبر 2024 سے الیکشن کمیشن میں تعینات کیا تھا۔

انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ستمبر میں شائع اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اندر کام کی تقسیم سے متعلق حکم جاری ہونے کے بعد سندھو اور جوشی نے کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو الگ الگ خطوط لکھے تھے۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ اس حکم کی وجہ سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، ہٹانے اور ریکارڈ کو اپڈیٹ کرنے کا کام ریاستی افسران کے بجائے براہ راست الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں چلے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کام کی تقسیم سے متعلق احکامات جاری کرنے والے افسر کے ان احکامات کو دونوں کمشنرز کے کہنے پر کبھی نافذ نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ سندھو اور جوشی کی جانب سے کابینہ سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک افسر سے متعلق تھے، نہ کہ پالیسی یا آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے معاملات سے۔

آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں فراہم کیے گئے کابینہ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنرز نے بتایا تھا کہ گرگ نے ڈپٹی الیکشن کمشنر کے لنک افسر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کمیشن یا متعلقہ افسران سے مشورہ کیے بغیر اپنے ہم مرتبہ اور سینئر افسران کے کام کی تقسیم کے سلسلے میں ایک حکم جاری کر دیا تھا۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنرز نے مزید بتایا کہ ایسا اس وقت ہوا، جب تمام متعلقہ افسران کو بار بار زبانی اور تحریری ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ کمیشن سے پہلے مشورہ یا منظوری لیے بغیر ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ جواب کے مطابق الیکشن کمشنرز نے اس جانب اشارہ کیا کہ گرگ کے اقدامات چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، شرائط ملازمت اور مدت کار) سے متعلق قانون، 2023 کی واضح خلاف ورزی تھے۔

اس شکایت پر 3 اگست کو تیار کیے گئے کابینہ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم چیف الیکشن کمشنر سے اس معاملے پر ان کی رائے طلب کر سکتے ہیں۔ اسی کے مطابق منظوری کے لیے ایک مسودۂ خط پیش کیا جا رہا ہے، براہ کرم ملاحظہ کریں۔‘‘ اگلے دن تیار کیے گئے ایک دوسرے مسودہ نوٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اطلاع موصول ہوئے بغیر دو انتخابی کمشنروں کی جانب سے کسی افسر کے خلاف کی گئی شکایات پر کارروائی کرنا ایک آئینی ادارے کے کام کاج میں مداخلت سمجھا جا سکتا ہے۔ آر ٹی آئی کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ اس کے کام کاج میں انتظامیہ کی کوئی مداخلت نہ ہو، تاکہ وہ آزادانہ اور شفاف طریقے سے کام کر سکے۔‘‘ جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا کام کاج اس کے ضابطوں اور رہنما ہدایات کے تحت چلتا ہے۔ مذکورہ خطوط الیکشن کمشنرز نے اپنی ذاتی حیثیت سے بھیجے تھے۔ اگرچہ انہیں پوری سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، لیکن انہیں پورے الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی باضابطہ خط و کتابت نہیں مانا جا سکتا۔

نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ منیش گرگ کی تقرری کابینہ کی تقرری کمیٹی نے کی تھی، لیکن اب وہ الیکشن کمیشن کے افسر ہیں اور ان کے کام اور طرزِ عمل کو کمیشن کے ضابطوں اور رہنما ہدایات کے تحت منضبط اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ کابینہ نوٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، شرائط ملازمت اور مدت کار) سے متعلق قانون، 2023 کی دفعہ 18 کے تحت کمیشن کے کام کاج سے متعلق فیصلے جہاں تک ممکن ہو، اتفاق رائے سے کیے جانے چاہئیں اور اختلاف کی صورت میں فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ کابینہ سکریٹری سومناتھن کے دستخط شدہ مسودہ نوٹ کو محکمۂ عملہ و تربیت کے سکریٹری اور اسٹیبلشمنٹ افسر کو بھی بھیجا گیا تھا، تاکہ اس معاملے کو ریکارڈ پر رکھا جا سکے۔ اس سے مستقبل میں متعلقہ افسر کے بارے میں فیصلے کرتے وقت اس معاملے کو مدنظر رکھنے میں مدد ملے گی۔

دونوں الیکشن کمشنرز کا کہنا ہے کہ افسر گرگ نے نہ تو ان سے کوئی مشورہ کیا اور نہ ہی انہیں کوئی اطلاع دی۔ اس کے باوجود انہوں نے الیکشن کمیشن کے کئی اعلیٰ افسران، مثلاً سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر اور ڈائریکٹر جنرل کے محکموں اور کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی کے احکامات جاری کر دیے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب گرگ کو پہلے ہی بار بار زبانی اور تحریری طور پر ہدایات دی جا چکی تھیں کہ وہ منظوری کے بغیر ایسے فیصلے نہ کریں۔ جب چیف الیکشن کمشنر یا سینئر افسر جوشی نے انتظامی محکمے سے اس تبدیلی سے متعلق فائل طلب کی تو انہیں وہ فائل بھی فراہم نہیں کی گئی۔ دونوں الیکشن کمشنرز نے الزام لگایا کہ گرگ کا یہ قدم کمیشن کی پرانی اور مستحکم روایات کے بالکل خلاف ہے اور یہ الیکشن کمیشن سے متعلق قانونی ضابطوں اور قانون کی دفعات کی براہ راست خلاف ورزی کرتا ہے۔

کابینہ سکریٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے ایک افسر کے خلاف 2 الیکشن کمشنرز (سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ بات ایک آر ٹی آئی کے جواب سے سامنے آئی ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn