احمد آباد / نئی دہلی:سابق آئی پی ایس افسر اور حکومت کی پالیسیوں پر آواز اٹھانے والے معروف وسل بلور سنجیو بھٹ کی جیل میں قید کو 8سال (2923 دن) مکمل ہونے پر ان کے بچوں اکاشی بھٹ اور شانتنو بھٹ نے ایک طویل اور جذباتی مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک شخص کو خاموش کرنے کے لیے "طاقت کی غیر معمولی مشینری" کا استعمال کیا گیا، جبکہ شہریوں کے حقوق اور آئین کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ریاستی ادارے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔
سنجیو بھٹ کے بچوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 5ستمبر2018 وہ سیاہ دن تھا جب موجودہ حکومت ان کے گھر میں داخل ہوئی اور سچ بولنے کی پاداش میں گھڑے گئے من گھڑت الزامات کے تحت ان کے والد کو لے گئی۔کیلنڈر کہتا ہے کہ آٹھ سال گزر چکے ہیں، لیکن ہمارے دل اور روحیں اسی ستمبر کی صبح پر اٹکی ہوئی ہیں جب ہماری دنیا کو تار تار کر دیا گیا۔ ہمارے والد نے ہمیں سکھایا تھا کہ خاموشی کی سلامتی کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کرنا سب سے بڑی ہار ہے۔ انہوں نے اقتدار کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور آج بھی وہ اتنی ہی مضبوطی سے لڑ رہے ہیں۔
بیان میں ملک کے جمہوری نظام اور اداروں کے زوال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ "جمہوریت کسی ایک ڈرامائی لمحے میں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیادیں تب کھوکھلی ہوتی ہیں جب طاقت کو روکنے کے لیے بنائے گئے ادارے اسی کے خادم بن جاتے ہیں۔ جب عدلیہ مظلوموں کی آخری پناہ گاہ رہنے کے بجائے ان کے خلاف ہتھیار بن جائے، اور جب عام شہری مظالم کو دیکھ کر چپ رہنا 'محفوظ' سمجھنے لگیں، تو جمہوریت کی عمارت ڈھنے لگتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ جابرانہ نظام کا سب سے بڑا مقصد نشانہ بنائے گئے فرد کو توڑنا نہیں ہوتا، بلکہ دیکھنے والوں کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ تاہم، اب ملک کے عوام میں بیداری کی نئی لہر آرہی ہے اور لوگ سوال پوچھنا شروع کر رہے ہیں۔
گجرات کیڈر کے سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ نے2011 میں ایک حلف نامہ داخل کر کے الزام لگایا تھا کہ2002کے گجرات فسادات میں وقت کے وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی کا کردار تھا۔ انہیں2011 میں معطل اور2015 میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ وہ ستمبر2018 سے جیل میں بند ہیں۔
2019 میں انہیں1990 کے ایک کسٹوڈیل ڈیتھ (تھانے میں موت) کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ 2024 میں ایک عدالت نے انہیں1996 کے منشیات رکھنے کے کیس میں20 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔
سنجیو بھٹ، ان کا خاندان، حامی اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیمیں ان تمام مقدمات اور سزاو¿ں کو 'سیاسی انتقام' اور انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔بیان کے اختتام پر ان کے بچوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ"وہ ہمارے والد کا جسم قید کر سکتے ہیں، لیکن ان کا ہمت و جذبہ نہیں توڑ سکتے۔ ہم زخمی اور نڈھال ضرور ہیں... لیکن ہم نہ ٹوٹے ہیں، نہ جھکے ہیں اور نہ ہی ہار مانی ہے! ہماری انصاف کی جنگ جاری رہے گی۔"
احمد آباد / نئی دہلی:سابق آئی پی ایس افسر اور حکومت کی پالیسیوں پر آواز اٹھانے والے معروف وسل بلور سنجیو بھٹ کی جیل میں قید کو 8سال (2923 دن) مکمل ہونے پر ان کے بچوں اکاشی بھٹ اور ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments