سپریم کورٹ نے سابق اداکارہ انیتا اڈوانی کی وہ درخواست سننے سے انکار کر دیا جس میں انہوں نے اپنے عہد کے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ اپنے تعلق کو شادی جیسا رشتہ تسلیم کرنے اور انہیں آنجہانی اداکار کی بیوہ قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنا بی ورالے پر مشتمل بینچ نے ریمارکس دیے کہ درخواست قابل سماعت قرار دینے کی کوئی بنیاد نہیں اور اسے لگژری کے لیے کی جانے والی قانونی چارہ جوئی قرار دیا۔
انیتا اڈوانی نے بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں ان کا یہ دعویٰ مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کا آنجہانی اداکار کے ساتھ شادی جیسا تعلق تھا اور وہ ان کی بیوہ ہیں۔
بمبئی ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں انیتا اڈوانی کے دعوے کو مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت ان کا دعویٰ قابل قبول نہیں، کیونکہ راجیش کھنہ کی ڈمپل کپاڈیا کے ساتھ شادی برقرار تھی۔
جسٹس شرمیلا یو دیش مکھ کی سربراہی میں سنگل رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ کسی تعلق کو شادی جیسا رشتہ تسلیم کرنے کے لیے فریقین کو سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے، جن میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ دونوں فریق قانونی طور پر شادی کرنے کے اہل ہوں۔ جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہوں۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ اصولوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے اعلان کے ذریعے کسی تعلق کو شادی اور ازدواجی رشتے کے مساوی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہٰذا اگرچہ فریقین نے باقاعدہ شادی نہ بھی کی ہو، تب بھی اس تعلق کو قانونی شادی کے بنیادی تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا۔
ہائی کورٹ نے انیتا اڈوانی کے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ ان کے تعلق کو تسلیم کرنے کی درخواست پر راجیش کھنہ کی بیوہ قرار دیے جانے کے دعوے سے الگ غور کیا جاسکتا ہے۔ انیتا اڈوانی نے ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اور راجیش کھنہ کئی برس تک ایک ساتھ رہے اور معاشرے میں اپنے تعلق کو شادی کی نوعیت کے رشتے کے طور پر پیش کرتے تھے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور مل کر تہوار مناتے تھے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ان کی اپیل میں کوئی قانونی وزن نہیں اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ضابطہ دیوانی کے آرڈر 7، رول 11 کے تحت ابتدائی مرحلے ہی میں دعویٰ مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
انیتا اڈوانی نے 2015 میں یہ مقدمہ ڈمپل کپاڈیا، ان کی بیٹیوں ٹوئنکل کھنہ اور رنکی کھنہ اور داماد راجیو بھاٹیا کے خلاف دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں انہوں نے آنجہانی اداکار راجیش کھنہ کے ساتھ اپنے تعلق کو تسلیم کیے جانے کی استدعا کی تھی۔
سپریم کورٹ نے سابق اداکارہ انیتا اڈوانی کی وہ درخواست سننے سے انکار کر دیا جس میں انہوں نے اپنے عہد کے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ اپنے تعلق کو شادی جیسا رشتہ تسلیم کرنے اور انہیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments