دہلی ہائی کورٹ نے ’ریس کورس‘ مسجد میں نماز ادا کرنے کی عبوری اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکورٹی وجوہات اور آس پاس جاری توڑ پھوڑ کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ یہ مسجد وزیر اعظم کی رہائش اور ایئرفورس اسٹیشن کے پاس واقع ہے۔ جسٹس انیش دیال کی سنگل بنچ معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ بنچ نے نماز کی اجازت دینے کے مطالبے والی عرضی خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ آس پاس کے علاقے میں سیکورٹی وجوہات کے سبب انہدامی کارروائی جاری ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کو وہاں نمازیوں کو داخلے کی اجازت دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے سیکورٹی سے متعلق خطرات پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ایسی حالت میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر مسجد کے ساتھ ساتھ احاطہ میں موجود ایک مندرمیں بھی فی الحال کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او) کی جانب سے عدالت کو یقین دلایا گیا کہ دہلی وقف بورڈ کی درخواست پر فیصلہ آنے تک مجسد کو منہدم نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے حکومت کو پورے معاملے پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
دراصل ’ریس کورس‘ کا علاقہ وزیر اعظم کی رہائش اور آپریشنل ایئرفورس اسٹیشن کے پاس ہونے کے باعث سیکورٹی کے لحاظ سے حساس ہے۔ حکومت نے سیکورٹی کے انتظامات کو مضبوط کرنے اور غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے آس پاس کے علاقے میں کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد بجلی-پانی کاٹنے اور مسجد میں نماز ادا کرنے پر روک لگانے کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ حالانکہ عدالت نے اس معاملے میں سماعت کے بعد عرضی خارج کر دی ہے۔ فی الحال عدالت نے مسجد میں نماز کی عبوری اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ معاملے میں آگے کی کارروائی حکومت کی اسٹیٹس رپورٹ اور متعلقہ درخواست پر ہونے والے فیصلے کے بعد آگے بڑھے گی۔
دہلی ہائی کورٹ نے ’ریس کورس‘ مسجد میں نماز ادا کرنے کی عبوری اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکورٹی وجوہات اور آس پاس جاری توڑ پھوڑ کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنای...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments