وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آزادی کے کچھ عرصے بعد سے کانگریس کے دور میں سامنے آنے والے مختلف معروف ''مالیاتی گھپلوں'' کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ''ہم سب جانتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے دور میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کس طرح اپنی ذاتی تنظیموں کے طور پر استعمال کیا۔ قرض دینے کے محتاط اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بینک ملازمین پر اپنی مرضی کے مطابق قرض دینے کے لیے دبا¶ ڈالا جاتا تھا۔''اسی سلسلے میں انہوں نے کہا کہ 1957 میں کانگریسی رہنما¶ں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہری داس مونڈھرا کو ایل آئی سی (لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا) سے رقم حاصل ہوئی۔ 1976 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے اسٹیٹ بینک کے چیئرمین آر کے تلوار کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا تھا کہ انہوں نے سنجے گاندھی کے قریبی شخص سے وابستہ ایک کمپنی کے لیے قرض کی شرائط میں نرمی کرنے کے سیاسی دبا¶ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
محترمہ سیتارمن نے ماروتی کو قرض دینے کے معاملے میں سنجے گاندھی کی جانب سے سینٹرل بینک آف انڈیا پر مبینہ دبا¶، 1980 کی دہائی میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور میں وزیر مملکت برائے خزانہ رہنے والے بی جناردن پجاری کی جانب سے بینک ملازمین پر قرض جاری کرنے کے لیے دبا¶ ڈالنے ، اور ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت میں وزیر رہتے ہوئے پون کمار بنسل کی جانب سے اپنے خاندان سے وابستہ کاروباروں کو قرض دینے کے لیے کینرا بینک پر دبا¶ ڈالنے جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا، ''کانگریس کے دور میں بینکنگ کا نظام طاقتور لوگوں کے لیے فون بک اور عام شہریوں کے لیے قواعد و ضوابط کی کتاب کی طرح تھا۔ تعلقات اور جوڑ توڑ کے ذریعے بینکنگ کا دور اب ختم ہو چکا ہے ۔ عام لوگوں کے لیے اب قرض حاصل کرنا آسان ہے اور بینک ملازمین پر فون کال کے ذریعے قرض دینے کا دبا¶ نہیں ڈالا جاتا۔''وزیر خزانہ نے کہا، ''آئی ڈی بی آئی بینک ہمیں خستہ حال حالت میں ملا تھا، کیونکہ کانگریس کے رہنما¶ں سے قریبی تعلقات رکھنے والے بڑے کاروباری گروپوں، مثلاً ویڈیوکون، ونسَم، اے بی جی شپ یارڈ اور کنگ فشر وغیرہ کو قرض دینے کے لیے خود آئی ڈی بی آئی کو مجبور کیا گیا تھا۔ یہ قرضے ڈوبے ہوئے قرضوں میں تبدیل ہو گئے ، جس سے بینک کو بھاری نقصان پہنچا۔ ہم نے اس صورت حال کی نشاندہی کی۔''
انہوں نے کہا، ''وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے پیشہ ورانہ طرز عمل، دانش مندی اور 25 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ازسرنو سرمایہ کاری کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ اب یہ بینک ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے ۔ آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک تنظیم نو میں تمام مناسب طریقہ¿ کار پر عمل کیا گیا ہے اور ہم نے کل ہی اس بات کو واضح کر دیا تھا۔''
مسٹر گاندھی نے کہا تھا، ''کانگریس کے دور میں آئی ڈی بی آئی قائم کیا گیا تھا، تاکہ ملک کی صنعت کو کھڑا کیا جا سکے ۔ مودی کے دور میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے ہوئی۔ کانگریس کے دور میں بینک بنائے جاتے تھے ، مودی کے دور میں بینک فروخت کیے جاتے ہیں۔''
کانگریس لیڈر کے بیان پر اپنے ردعمل میں وزیر خزانہ نے فروری 2024 میں جاری ہندوستانی معیشت سے متعلق وائٹ پیپر کا حوالہ دیا، جسے انہوں نے آج بھی پوری طرح متعلقہ قرار دیا۔ اس سرکاری دستاویز میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت کے دس سالہ دور (2004-2014) کے دوران ہونے والے کھلے عام گھپلوں، معاشی بدانتظامی اور بینکنگ کے شعبے میں سیاسی مداخلت کی کئی سنگین مثالیں شامل کی گئی تھیں۔
وزیر خزانہ سیتارمن نے متعدد مثالیں پیش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کانگریس کے رہنما بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔ انہوں نے مسٹر گاندھی کو جواب دیتے ہوئے کہا، ''رافیل کے معاملے میں آپ کے جھوٹ ناکام ہوئے اور بے نقاب ہو گئے تھے ۔ آپ کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔''
مسٹر گاندھی نے کہا تھا کہ وہ آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں، جو اس کی نجکاری اور کینیڈا کی کمپنی فیئر فیکس کو فروخت کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل وزارت خزانہ نے آئی ڈی بی آئی کے حصص فروخت کرنے کے بارے میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا، ''اثاثوں کی قدر کا تخمینہ لگانے والے ادارے نے مضبوط اور آزمودہ طریقہ¿ کار اختیار کیا، جس میں متنازع ٹیکس مطالبات کے لیے اضافی قدر بھی شامل تھی۔ اسے اہل بولی دہندگان کے عمومی مطالبات کے مطابق ایڈجسٹ کیا گیا، جس سے بولی کی پیش کش کی قیمت بڑھانے میں مدد ملی۔''
وزارت خزانہ نے کہا کہ اس حصص فروخت کے عمل سے حکومت کی آمدنی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑنے والا۔ وضاحت میں کہا گیا کہ صرف اضافی ٹیکس کا مطالبہ سامنے آ سکتا ہے اور اگر اس کی ادائیگی کرنی پڑی تو اس کی تلافی ہو جائے گی۔ وزارت کی جانب سے جاری وضاحت کے مطابق اس مد میں ممکنہ واجب الادا رقم صرف 627 کروڑ روپے تھی، جب کہ بولی کی مقررہ قیمت میں 3,917 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سے مرکزی حکومت اور ایل آئی سی کو حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں اضافہ ہوا۔
وزارت نے کہا کہ دیپم (محکمہ¿ سرمایہ کاری اور عوامی اثاثوں کے انتظام) نے مالی سال 2025-26 میں اپنے داخلی طریقہ¿ کار کے مطابق ابتدائی بولی کا عمل منعقد کیا تھا۔ یہ طریقہ¿ کار رہنما اصولوں کی حیثیت رکھتے ہیں، نہ کہ سخت قوانین یا ضوابط کی۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ محدود کاروبار والے آئی ڈی بی آئی کے حصص کی قیمت میں اتار چڑھا¶ اور انہیں فہرست سے ہٹانے کی وجوہات کی تفصیلی وضاحت 14 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں دی گئی ہے ۔ حکومت اور ایل آئی سی نے آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک تنظیم نو کے بعد مستقبل میں متوقع قدر میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے باقی حصص اپنے پاس رکھے ہیں۔
نئی دہلی، 30 اکتوبر :) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک نجکاری کے فیصلے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس تبصرے کہ ''کانگریس بینک بناتی تھی، مودی حکومت بی...