بیان میں وضاحت کی گئی کہ ’’شہری شرکت کی اس مستحکم روایت کے تحت، پوپ نے اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعے شکاگو بھیجا۔‘‘
اس طرح لیو چہار دہم تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے جنہوں نے امریکی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالا۔
ویٹی کن نے تصدیق کی کہ شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو، جن کا سابقہ نام روبرٹ پریوووسٹ تھا، نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے شکاگو میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔ ویٹی کن نے اس اقدام کی وجہ شہری شرکت کی اہمیت پر ان کے پختہ یقین کو قرار دیا۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی پوپ کے سیاسی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق پوپ لیو ’’جمہوری عمل میں ہر شہری کی شرکت کے حق اور فرض‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔
تقریبا1.4 ارب پیروکاروں پر مشتمل کیتھولک چرچ کے سربراہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی کئی وجوہات ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں امریکہ میں تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایران کے خلاف امریکی جنگ پر پوپ کی تنقید کے بعد دونوں کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی تھی۔
ٹرمپ نے لیو چہار دہم کو جرائم کے معاملے میں ’’کمزور‘‘ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ’’خوف ناک‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب لیو چہار دہم نے واضح کیا کہ وہ ٹرمپ سے خوف زدہ نہیں ہیں۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔
پوپ لیو نے اپنے منصب پر فائز ہونے سے قبل پیرو میں تقریباً 2 دہائیاں مذہبی خدمات انجام دیتے ہوئے گزاریں۔ ان کے پاس امریکہ اور پیرو دونوں ممالک کی شہریت ہے۔ ویٹی کن کے بیان میں بتایا گیا کہ پوپ لیو نے یہ بھی تصدیق کی کہ پیرو میں قیام کے برسوں کے دوران بھی جب انہیں موقع ملا، انہوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
پوپ لیو چہار دہم نے امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ویٹی کن کے پریس آفس نے آج جمعے کو ایک بیان میں بتایا کہ ’’پوپ لیو چہار دہم نے امریکی شہری کی حیثیت سے اپنا حقِ ر...