پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ قرار دیے گئے راستے سے جمعہ کے روز گزرنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہونے والا یہ تیسرا آئل ٹینکر ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ ٹینکر آبنائے ہرمز کے دہانے پر اب بھی کھڑا ہے اور اس میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ٹینکر کا نام اور اس کی دیگر تفصیلات نہیں بتائی گَئی ہیں۔ بیان میں ٹینکر کے عملے کی صورتِ حال کے متعلق بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو آئل ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے، اور بعد ازاں آبنائے کے جنوبی پانیوں میں رک گئے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں آئل ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور مقام معلوم کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’امریکی فوج کی حمایت سے‘ آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ملین سے بیرل زائد تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔...