نئی دہلی : مغربی بنگال کے کھڑگپور میں اے ایس پی کے عہدے پر تعینات 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا تبادلہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے ’ان شاء اللہ‘ کا لفظ استعمال کیا، جس کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملے کو لے کر بی جے پی پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا اور خاتون آئی پی ایس افسر کو آن لائن ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نے بشریٰ بانو کا ساتھ دینے کے بجائے اگلے ہی دن ان کا تبادلہ کر دیا۔
بشریٰ بانو نے یو پی ایس سی امیدواروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ویڈیو بنائی تھی۔ اس میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رہائشی کوچنگ اکیڈمی کے کردار اور اپنی تیاری کے تجربات شیئر کیے تھے۔ویڈیو کی شروعات انہوں نے ’السلام علیکم‘ سے کی، جبکہ آخر میں ’ان شاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے۔ انہی الفاظ کو لے کر تنازع کھڑا ہوا اور تنقید شروع ہو گئی۔
ایک ویب سائٹ کی جانب سے اس ویڈیو کو لے کر بنگال کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے شکایت کی گئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ آئی پی ایس افسر نے مذہبی نوعیت کے الفاظ کا استعمال کیا، لیکن ’وندے ماترم‘ یا ’جے ہند‘ نہیں کہا۔شکایت کے بعد ریاستی حکومت نے بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا اور انہیں ریاستی مسلح پولیس میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔
بشریٰ بانو کی جگہ پارتھ گھوش کو کھڑگپور کا ایڈیشنل ایس پی مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جس عہدے پر بشریٰ بانو کو بھیجا گیا ہے، وہاں سے سبھندو منڈل کو ہٹا کر چندن نگر پولیس کمشنریٹ میں ایڈیشنل ڈی سی مقرر کیا گیا ہے۔
نئی دہلی : مغربی بنگال کے کھڑگپور میں اے ایس پی کے عہدے پر تعینات 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا تبادلہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے ’...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments