Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

امیگریشن پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کو 1 ہی روز 2 قانونی جھٹکے

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

امیگریشن پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کو 1 ہی روز 2 قانونی جھٹکے
امیگریشن پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کو 1 ہی روز 2 قانونی جھٹکے — September 15, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امیگریشن پالیسی کے حوالے سے 2 بڑے قانونی دھچکے لگے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو ایک ہی روز 2 اہم قانونی محاذوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پہلا یہ کہ وفاقی عدالت نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت محدود کرنے کی حکومتی تجویز روک دی ہے، دوسرا یہ کہ 22 ریاستوں اور ضلع کولمبیا نے تارکینِ وطن افراد کے مستقل رہائشی اجازت نامے سے متعلق نئی پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج ایف ڈینس سیلر چہارم نے انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی مدت مقرر کرنے کے فیصلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے، یہ اقدام منگل سے نافذ ہونا تھا۔

حکومتی تجویز کے تحت غیر ملکی طلبہ کے لیے ایف ویزا اور ثقافتی تبادلے کے پروگرام میں شریک افراد کے لیے جے ویزا کی مدت زیادہ سے زیادہ 4 سال مقرر کی جانی تھی جبکہ صحافیوں کے لیے آئی ویزا کی مدت 240 دن تک محدود کرنے کی تجویز تھی۔

جج نے قومی سلامتی اور ویزا نظام میں جعل سازی روکنے کے حکومتی جواز کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت کروڑوں محققین اور ماہرین نے امریکا میں تحقیق اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے نئی پابندیوں کے اثرات اعلیٰ تعلیم اور امریکی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

ان پابندیوں سے تقریباً 1.6 ملین غیر ملکی طلبہ اور 500,000 تبادلہ پروگرام کے شرکاء متاثر ہو سکتے تھے۔

دوسری جانب نیویارک، کیلیفورنیا اور الینوائے کی قیادت میں 22 ریاستوں اور ضلع کولمبیا نے ایک اور حکومتی ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

اس ضابطے کے تحت امیگریشن حکام ان تارکینِ وطن افراد کو مستقل رہائشی اجازت نامہ دینے سے انکار کر سکتے ہیں جو قانونی طور پر حکومتی فلاحی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کے تحت خوراک اور علاج سمیت غیر نقد سرکاری سہولتوں کے استعمال کو بھی مستقل رہائش کے فیصلے میں مدِ نظر رکھا جائے گا جبکہ درخواست گزار کے خاندان کے افراد کو ملنے والی سہولتیں بھی جانچ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے کانگریس کے اختیار سے تجاوز کیا ہے، کیونکہ مستقل رہائش کے قانونی معیار طے کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔

ریاستوں کے مطابق خوراک کی امداد اور سرکاری طبی سہولتوں جیسی قانونی مراعات استعمال کرنے والے افراد کو سزا دینا وفاقی قوانین کے خلاف ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی کہا ہے کہ نئی پالیسی تارکینِ وطن افراد کے خاندانوں کو ان سہولتوں سے دور کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے لوگوں کو خوراک اور صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امیگریشن پالیسی کے حوالے سے 2 بڑے قانونی دھچکے لگے ہیں۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn