Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

آئی پی ایس بشری بانو کےان انشاء اللہ کہنے پر تنازع، مہوا موئترا بولیں—’مسلم افسر کو کنارے کر دیا گیا‘

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

آئی پی ایس بشری بانو کےان انشاء اللہ کہنے پر تنازع، مہوا موئترا بولیں—’مسلم افسر کو کنارے کر دیا گیا‘
آئی پی ایس بشری بانو کےان انشاء اللہ کہنے پر تنازع، مہوا موئترا بولیں—’مسلم افسر کو کنارے کر دیا گیا‘ — September 15, 2026
نئی دہلی : مغربی بنگال کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے معاملے کو لے کر سیاسی تنازع تیز ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قریبی اور ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے براہِ راست مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت خود کو سیکولر قرار دیتی ہے، جب کہ دوسری جانب ایک مسلم خاتون افسر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مہوا موئترا نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت برکس سربراہی اجلاس میں نماز کے لیے کمرہ بنا کر اپنی سیکولر شبیہ پیش کر رہی ہے، تو دوسری طرف ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو صرف ’السلام علیکم‘انشاء اللہاور ’جزاک اللہ‘ کہنے پر کنارے کر دیا گیا۔ میڈیا کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ گودی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جا رہی نفرت کو ہی آگے بڑھا رہا ہے۔ مہوا نے کہا، ’’بشریٰ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘


حال ہی میں بشریٰ بانو نے اپنے سفر کے بارے میں ایک ویڈیو شیئر کیا تھا۔ ویڈیو کی شروعات انہوں نے ’السلام علیکم‘ سے کی، درمیان میں ’ان شاء اللہ‘ کہا اور آخر میں ’جزاک اللہ‘ کہہ کر ویڈیو ختم کیا۔ان کے انہی الفاظ کو لے کر مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری کے پاس شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو عوامی پیغام میں مذہبی نوعیت کے خیرمقدم یا اظہار سے گریز کرنا چاہیے اور غیر جانب دار رہتے ہوئے قومی نوعیت کے الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ ’ہندو لیگل فنڈ‘ نامی ایک تنظیم نے مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے اس معاملے میں شکایت کی ہے۔


ہندو لیگل فنڈ تنظیم کا الزام ہے کہ آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو نے اپنے ویڈیو میں اردو اور اسلامی انداز کے خیرمقدمی الفاظ کا استعمال کیا، لیکن ’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ جیسے قومی نعروں یا سلام کا استعمال نہیں کیا۔تنظیم نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی حاضر سروس افسر کو عوامی گفتگو میں مذہبی غیر جانب داری برقرار رکھنی چاہیے۔ تنظیم نے محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب مہوا موئترا نے اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مغربی بنگال کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے معاملے کو لے کر سیاسی تنازع تیز ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قریبی اور ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے براہِ راست مودی حکومت کو نش...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn