Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

امریکی فوج نے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل جاری کر دی، جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

امریکی فوج نے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل جاری کر دی، جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف
امریکی فوج نے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل جاری کر دی، جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف — September 15, 2026
امریکہ میں مرکزی انسپکٹر جنرل کی طرف سے کانگریس کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ امریکی محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تیار کی گئی ہے، جنھیں 12 مئی 2026 کو ’لیڈ انسپکٹر جنرل‘ نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں 30 جون 2026 تک کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی جنگ، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا، کے دوران گولہ بارود کے استعمال کے نتیجے میں امریکی فوج کے ذخائر میں کمی ہوئی اور ان کی دوبارہ فراہمی کے لیے پیداواری صلاحیت میں حائل رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اسلحہ سازی کی صنعت میں کئی مستقل رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سالڈ راکٹ موٹروں کی تیاری، جدید دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹس کی دستیابی، اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔

محکمۂ دفاع میں اسلحہ کی خریداری اور رسد کی نگرانی کرنے والے دفتر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے خاصا وقت درکار ہو گا۔

آپریشن ایپک فیوری سے متعلق کانگریس کو پیش کی گئی لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے درمیان 11 امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے جبکہ سات دیگر غیر جنگی واقعات میں جان سے گئے۔ اسی عرصے کے دوران 417 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) سے منسوب یہ بیان بھی درج کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر موجود سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران درجنوں امریکی طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار ایف۔15ای لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین اپنی ہی فورسز کی فائرنگ جبکہ ایک دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک ایف۔35اے لڑاکا طیارے کو ایران کے اوپر پرواز کے دوران دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک اے۔10 طیارہ جنگی تلاش و امداد مشن سے واپسی پر نقصان کے باعث تباہ کر دیا گیا۔

اسی طرح کے سی۔135 ایندھن بردار طیاروں میں سے سات تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایک طیارہ عراق کی فضائی حدود میں تصادم کے نتیجے میں تباہ ہوا، ایک کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ طیارے سعودی عرب میں ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی نگرانی کرنے والے ایک ای۔3 طیارے کو سعودی عرب میں ایرانی حملوں سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک ایچ ایچ۔60ڈبلیو ہیلی کاپٹر جنگی تلاش و امداد کی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوا۔

دستاویز کے مطابق ایک ایم کیو۔4سی بغیر پائلٹ طیارہ گر کر تباہ ہوا، جبکہ چار اے ایچ۔6 ہیلی کاپٹرز کو اس نوعیت کا نقصان پہنچا کہ امریکی فورسز نے انھیں خود ہی تباہ کر دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک اے ایچ۔64 ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرایا گیا اور ایک ایم ایچ۔60 ہیلی کاپٹر بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہوا۔

اس کے علاوہ 30 ایم کیو-9 طرز کے نگرانی اور حملہ آور ڈرونز کے تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

امریکہ میں مرکزی انسپکٹر جنرل کی طرف سے کانگریس کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور جنگ کے دوران ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn