ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں یمن کے ایک جزیرے کے قریب انڈین شہریوں کو لے جانے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ اس کشتی میں 14 انڈین شہری سوار تھے اور اسے جزیرہ زقر کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا نیوز ایجنسی نے 22 اکتوبر کو یہ رپورٹ شائع کی ہے۔
دوسری جانب ریاض میں انڈین سفارتخانے کا ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہنا تھا کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب ہونے والے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کر رہا ہے۔‘
سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’انڈین شہریوں کی سلامتی اور خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔‘
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کہتے ہیں کہ حوثی فورسز کشتی کے مسافروں کو بچانے کی کارروائی میں مصروف ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
انھوں نے سعودی عرب کے ’غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘ کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یحییٰ سریع نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاض کے ’عجلت پسند اقدامات‘ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔
رواں برس جولائی سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ان جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جنھیں وہ سعودی عرب سے منسلک قرار دیتے ہیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سعودی جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں اور آبنائے باب المندب، جو بحیرۂ احمر کا جنوبی دروازہ ہے، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں یمن کے ایک جزیرے کے قریب انڈین شہریوں کو لے جانے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments