Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر دراندازی کی کوشش , چین کی وارننگ

Admin
By Admin
Oct 22, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر دراندازی کی کوشش , چین کی وارننگ
افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر دراندازی کی کوشش , چین کی وارننگ — October 22, 2026
افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر دراندازی کی کوشش پر چینی حکام نے طالبان کو علاقہ چھوڑنے کی وارننگ جاری کردی۔

افغانستان کی طالبان حکومت کے تحت سرحد پار دہشت گردی اور غیر قانونی دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ہمسایہ ممالک کو شدید تشویش اور چوکس کر دیا ہے۔

افغان خبر رساں ادارے ‘افغانستان انٹرنیشنل’ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان اہلکاروں نے واخان راہداری کے ذریعے چینی سرحد پر داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر چینی سرحدی حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے طالبان کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی حتمی وارننگ جاری کر دی۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ چین نے اپنے بارڈر کنٹرول کو مزید سخت کرتے ہوئے سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت اور دراندازی کو روکنے کے لیے خاردار تاریں نصب کر دی گئی ہیں اور نگرانی کے جدید کیمرے لگائے گئے ہیں۔

چین نے دہشت گرد گروہوں اور غیر قانونی عناصر کی دراندازی کے خدشے کے پیشِ نظر افغانستان کے ساتھ واخان کا سرحدی راستہ تاحال بند کر رکھا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جہاں پاکستان سرحدی دراندازی اور دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، وہیں اب چین اور دیگر Central Asian ہمسایہ ممالک نے بھی سرحدی سیکورٹی کی ناقص صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر دراندازی کی کوشش پر چینی حکام نے طالبان کو علاقہ چھوڑنے کی وارننگ جاری کردی۔...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn