تھرواننت پورم: کیرالہ میں آر ایس ایس کے ایک نظریہ ساز کے متنازع بیان نے شدید سیاسی اور عوامی بوال کھڑا کر دیا ہے۔ موصوف نے کہا کہ اگر نیٹ پیپر لیک کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ سے نمٹنے کی ذمہ داری ان کے پاس ہوتی، تو وہ سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیتے۔ یوٹیوب چینل 'پتھریکا' پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں ٹی جی موہن داس نے کہا کہ وہ سب سے پہلے جنتر منتر کے اطراف چار کلومیٹر کے دائرے میں کرفیو نافذ کرتے اور مظاہرین کو منتشر ہونے کے لیے تین بار خبردار کرتے۔ اگر وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹتے تو وہ سیکیورٹی فورسز کو براہِ راست گولی چلانے کا حکم دیتے۔ موہن داس نے کہا کہ "لوگ بھگدڑ مچاتے ہوئے بھاگیں گے۔ کچھ ہلاک ہوں گے اور کچھ زخمی۔ چار گھنٹوں کے اندر صورتحال پرسکون ہو جائے گی، جس کے بعد لاشیں اکٹھی کر کے ہسپتال پہنچا دی جائیں گی۔" علاوہ ازیں، انہوں نے احتجاج میں شریک خواتین کے بارے میں بھی شدید توہین آمیز اور نامناسب تبصرے کیے۔ان کے ان بیانات پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور صارفین نے موہن داس پر پرامن مظاہرین، بالخصوص خواتین کے خلاف تشدد کی ترغیب دینے کا الزام لگایا۔ ٹی جی موہن داس کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایک مصنف، کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے طویل عرصے سے وابستہ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور وکیل موہن داس صحافی اور ٹی وی اینکر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ ماضی میں بی جے پی کے 'انٹلیکچوئل سیل' کے ریاستی کنوینر اور بھارتیہ وچار کیندرم میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ سال 2012 میں آر ایس ایس کے ہفتہ وار رسالے 'کیسری' میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان سیاسی تعاون کے امکانات پر بحث کی تھی، جس نے ریاست میں کافی بحث چھیر دی تھی۔ دوسری جانب سی پی آئی کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے کیرالہ کے ریاستی پولیس چیف سے موہن داس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے، جس میں ان کے بیان کو تشدد بھڑکانے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔طلبہ تنظیم کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت اور گولیوں کے استعمال کی کھلے عام وکالت کرنا کوئی سیاسی آزادی نہیں، بلکہ آئینی اقدار اور جمہوری احتجاج کے بنیادی حق پر سیدھا حملہ ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ معاشرے میں خوف اور لاقانونیت پھیلانے کی اس کوشش پر موہن داس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments