Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

ایران سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں "شدید فوجی کارروائی" کے لیے تیار ہیں : ٹرمپ

ایران سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں "شدید فوجی کارروائی" کے لیے تیار ہیں : ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی تو وہ "شدید فوجی کارروائی" کے لیے تیار ہیں۔ یہ موقف تہران پر فوجی حملے عارضی طور پر معطل کرنے کے ان کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے "axios" ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو زیادہ وقت نہیں دے گی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حالیہ بات چیت "سنجیدہ" ہے، لیکن یہ نا معلوم مدت تک جاری نہیں رہے گی۔ تہران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے دیے جانے والے وقت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا "اب زیادہ وقت نہیں، یا تو معاملات تیزی سے آگے بڑھیں گے یا بالکل نہیں۔" ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے جمعے کے روز اس وقت حملے روکنے کا فیصلہ کیا جب ثالثوں نے ان سے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کی درخواست کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ حملے معطل کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "ہم نے کچھ کھویا ہے اور نہ کچھ پایا ہے"۔ انھوں نے واضح کیا کہ عسکری تناؤ میں کمی کے بعد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں اور اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ سفارتی راستہ ناکام ہونے کی صورت میں تصادم دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا "اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو ہم مزید شدت کے ساتھ جنگ کی طرف لوٹیں گے۔" یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی واشنگٹن آمد متوقع ہے۔ جہاں انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تصادم کے آغاز کے بعد پہلی براہ راست بات چیت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ امریکی صدر کے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد یہ آٹھواں موقع ہوگا جب نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ دونوں سربراہان کی آخری ملاقات فروری میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی مہم شروع کرنے سے چند روز پہلے ہوئی تھی۔ نیتن یاہو نے اپنی روانگی کے وقت ایک وڈیو بیان میں کہا "ان مشکل حالات میں انتہائی عزم اور بڑی دانش مندی کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایجنڈا پر موجود تمام امور پر بات کریں گے، جن میں سب سے پہلے ایران ہے۔ یقیناً ہمارا مقصد اپنی سکیورٹی کا تحفظ اور اپنے ارد گرد امن کے دائرے کو وسعت دینا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان منگل کے روز ہونے والا یہ اجلاس اس تصادم کا رخ متعین کرنے میں اہم ثابت ہو گا۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments