نئی دہلی، 25 جولائی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک کی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے ۔آئیسا نے ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ لاکھوں طلبہ، نوجوانوں اور جمہوریت پسند شہریوں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ تنظیم نے اسے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران مرکزی حکومت کے لیے سب سے بڑے سیاسی جھٹکوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ منظم عوامی تحریکوں کی طاقت کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا۔ تنظیم کے مطابق، تعلیمی نظام میں بڑھتے بحران، تعلیم کی نجکاری، بے روزگاری، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے ) اور جمہوری حقوق سے متعلق مسائل پر ملک بھر میں ایک وسیع طلبہ تحریک ابھری۔ آئیسا نے دعویٰ کیا کہ اس تحریک کا مرکز غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال تھی، جس میں سونم وانگچک سمیت کئی طلبہ رہنما¶ں اور کارکنوں نے حصہ لیا۔ تنظیم نے تحریک میں تعاون کرنے والے مختلف طلبہ، نوجوان اور عوامی تنظیموں کے کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ تحریک کو دبانے کے لیے حکومت نے طاقت کا استعمال کیا۔ آئیسا کے مطابق، پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، پانی کی بوچھاڑ اور پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ بعض کو شدید چوٹیں آئیں۔ تنظیم نے بہار، مغربی بنگال اور مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں ہونے والے احتجاجوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومتی دبا¶ کے باوجود تحریک مسلسل مضبوط ہوتی گئی اور بڑی تعداد میں طلبہ و نوجوان سڑکوں پر نکلتے رہے ۔ آئیسا نے کہا کہ کئی سماجی کارکنوں، ماہرینِ تعلیم، فنکاروں اور فلمی شخصیات نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ حکومت اور برسرِ اقتدار جماعت کے رہنما¶ں نے تحریک کو "ملک دشمن" قرار دے کر بدنام کرنے کی کوشش کی، حالانکہ مظاہرین تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ آئیسا نے واضح کیا کہ وہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تحریک کی ایک اہم کامیابی سمجھتی ہے ، لیکن اس کے مطابق جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ تنظیم نے تمام گرفتار اور حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی، ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے ، 20 جولائی کو پولیس کی کارروائی کی عدالتی تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اپنے بیان میں آئیسا نے قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے ) کو ختم کرنے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کو واپس لینے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک وزیر کا استعفیٰ نہیں بلکہ مساوات، سماجی انصاف، جمہوری شراکت داری اور سب کے لیے آسانی سے دستیاب معیاری تعلیمی نظام کا قیام ہے ۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments