نئی دہلی:
سی پی ایم کے پولٹ بیورو رکن اور سینئر لیڈر ایم اے بے بی نے اپوزیشن کی آئندہ تحاد اور قیادت سے متعلق ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کو کامیابی حاصل ہوتی ہے، تو قومی سطح پر اپوزیشن لیڈر ہونے کے ناطے کانگریس رہنماء راہل گاندھی کو وزیرِ اعظم کے عہدے پر دعویداری کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے چہرے کا حتمی فیصلہ انتخابات کے بعد ہی باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔
ایک صحافتی گفتگو کے دوران ایم اے بے بی نے کہا:
"عام طور پر لوک سبھا میں اپوزیشن کے قائد کے پاس ہی یہ بنیادی حق ہوتا ہے۔ لیکن حکومت کی قیادت کون کرے گا، اس کا فیصلہ اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہونے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔ انتخابات کے بعد تمام حلیف جماعتیں مل بیٹھ کر ایک بالغ النظر سیاسی فیصلہ کرنے کی اہل ہوں گی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ سی پی آئی ایم فی الوقت انتخابات سے قبل کسی بھی قسم کی فرضی قیاس آرائیوں میں شامل نہیں ہونا چاہتی اور ہماری تمام تر توجہ الیکشن جیت کر اکثریت حاصل کرنے پر ہونی چاہیے۔
اپنی پارٹی کے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے ایم اے بے بی نے یاد دلایا کہ ۱۹۹۶ کے لوک سبھا انتخابات کے بعد جب یونائیٹڈ فرنٹ سب سے بڑے اتحاد کے طور پر ابھرا تھا، تو سی پی آئی ایم کی سینٹرل کمیٹی نے مغربی بنگال کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیوتی باسو کو وزیرِ اعظم بنانے کی تجویز پر طویل بحث کی تھی۔
انہوں نے کہا:
"ہماری موجودہ عددی طاقت کو دیکھتے ہوئے ہمارے لیے وزیراعظم کے عہدے پر دعویداری کرنا مضحکہ خیز ہوگا۔ اس لیے قدرتی طور پر اپوزیشن لیڈر کے پاس ہی یہ حق بنتا ہے کہ وہ آگے آئے۔"
مستقبل کے ممکنہ وزرائے اعظم کے ناموں پر بات کرتے ہوئے ایم اے بے بی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تمل ناڈو میں بی جے پی کی شکست کے بعد اداکار سے سیاست دان بنے جوزف وجے کا نام بھی بطور مستقبل کے وزیرِ اعظم زیرِ بحث آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی سیاست میں وجے کے نام کی چرچا ضرور ہے، لیکن وہ فی الحال اس تنازع میں پڑے بغیر صرف اپوزیشن کی اجتماعی فتح پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
سی پی ایم کے پولٹ بیورو رکن اور سینئر لیڈر ایم اے بے بی نے اپوزیشن کی آئندہ تحاد اور قیادت سے متعلق ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments