نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران ایک احتجاجی کے والد پر حملہ کر کے انہیں زخمی کرنے کے ملزم سوتنتر بھاردواج کو ایک دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ آج سوتنتر بھاردواج کی پولیس حراست ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد اسے ڈیوٹی مجسٹریٹ انجلی سنگھ کی عدالت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ عدالت نے سوتنتر بھاردواج کو 5 ستمبر کو، 6 ستمبر تک کی پولیس حراست میں بھیجا تھا۔ پیر کے روز عدالت میں دوبارہ پیشی ہوگی۔
سوتنتر بھاردواج کو یوپی کے بلند شہر سے 4 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب اس نے ایک پوڈ کاسٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک احتجاجی طالبہ کے والد کے سر پر حملہ کیا تھا۔ اس پوڈ کاسٹ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی اور کچھ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے سنسد مارگ تھانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔
پاکسو اور ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب سوتنتر بھاردواج نے خود ہی پوڈ کاسٹ پر جرم کا اعتراف کر لیا ہے تو اس کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج ہونی چاہیے۔ اس احتجاج کے بعد سوتنتر بھاردواج کو یوپی کے بلند شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سوتنتر بھاردواج کے خلاف پاکسو (POCSO) قانون اور ایس سی-ایس ٹی (SC/ST) ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
کالی وردی میں جنتر منتر پر مظاہرین پر حملے
واضح رہے کہ جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ کچھ لوگ کالی وردی میں لاٹھی اور ڈنڈے لے کر آئے تھے اور مظاہرین پر حملوں کو انجام دیا تھا۔ اس مظاہرے کے دوران کی سوتنتر بھاردواج کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔
نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران ایک احتجاجی کے والد پر حملہ کر کے انہیں زخمی کرنے کے ملزم سوتنتر بھاردواج کو ایک دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments