نئی دہلی:
قومی دارالحکومت دہلی کے معروف تعلیمی علاقے ستیا نیکیتن میں ایک متعدد منزلہ بوائز پی جی عمارت گرنے سے دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے والے ایک اور طالب علم کے ایمس ہسپتال میں دم توڑنے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہو گئی ہے۔ عمارت کے ملبے تلے اب بھی ۴۰ سے ۵۰ طلبہ کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں جنگی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
جنگی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن جاری:
دہلی کی وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا کے مطابق این ڈی آر ایف ، دہلی فائر سروسز، دہلی پولیس، ایم سی ڈی اور ڈی ڈی ایم اے کی ٹیمیں موقعِ واردات پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ ملبے سے اب تک ۱۱ طلبہ کو نکال کر قریبی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے ایمس کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج دو طلبہ کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوب مغربی) امِت گوئل نے بتایا کہ ساؤتھ کیمپس تھانے میں عمارت کے مالک ہری رام اور دیگر کے خلاف بھارتیہ نیا سنہیتا کی مختلف دفعات—۱۰۵ (لاپرواہی سے موت)، ۲۹۰ (تعمیرات میں مجرمانہ لاپرواہی)، اور ۱۲۵ (انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنا) کے تحت مقدمہ (FIR) درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کو دوپہر تقریباً ۱:۳۴ بجے حادثے سے متعلق پی سی آر کال موصول ہوئی تھی۔
علاقے کے لوگوں کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی عمارت ۵ منزلہ بوائز پی جی تھی جسے "ہوسٹل ڈیز" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ایک عینی شاہد نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ساتھ والی عمارت بھی متأثر ہوئی۔ چونکہ حادثہ اتوار کے روز پیش آیا، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں موجود تھے اور ملبے تلے دب گئے۔ دقیق تعداد کا اندازہ ہوسٹل کے رجسٹریشن ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی ہو سکے گا۔
قومی دارالحکومت دہلی کے معروف تعلیمی علاقے ستیا نیکیتن میں ایک متعدد منزلہ بوائز پی جی عمارت گرنے سے دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے والے ایک اور طالب علم...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments