کولکاتا میں درگا پوجا کے اہتمام اور 'پوجا کے موافق ماحول' کو برقرار رکھنے کے لیے 'سب کے متحد ہونے' کا مشورہ دیتے ہوئے مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر اور راجیہ سبھا رکن شمیک بھٹاچاریہ کے ایک بیان نے ریاست میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر 1946 کے دنگوں کے دوران گپتا یا جیسوال جیسی غیر بنگالی برادریاں ساتھ نہ کھڑی ہوتیں تو شمالی کولکاتا کے 'بھدر لوک' (معزز) اور روايتی بنگالیوں کا وجود ہی ختم ہو چکا ہوتا۔ اس بیان کے بعد ترنمول کانگریس، کانگریس اور سی پی آئی ایم نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے اسے بنگالیوں کی توہین اور آنے والے کے ایم سی انتخابات سے قبل پولرائزیشن کی کوشش قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز وسطی کولکاتا کے بؤبازار میں 'شتدل سنگھ' کی درگا پوجا کی 'کھونٹی پوجا' کی تقریب میں بی جے پی کے ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ریاستی وزیر تاپس رائے اور بی جے پی کے شمالی کولکاتا صدر تموگھنو گھوش بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمیک بھٹاچاریہ نے الزام لگایا کہ ترنمول حکومت کے دور میں پوجا کے وسرجن (مورتی وسرجن) کی تاریخیں اور اوقات حکومت طے کرتی تھی۔ آزادی اور تقسیمِ ہند سے قبل کے 1946 کے دنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
"شمالی کولکاتا میں کھڑے ہو کر یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اگر گپتا اور جیسوال برادری کے لوگ نہ ہوتے، اگر انہوں نے تلواریں بنانے کے لیے لوہا اور اپنی تمام جائیدادیں نہ دی ہوتیں، تو آج شمالی کولکاتا میں ہم جیسے معزز اور خاندانی بنگالیوں کا وجود نہ ہوتا۔ وہ ہمارے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوئے۔ اگر کولکاتا کو سمجھنا ہے تو شمالی کولکاتا آنا پڑے گا۔"
ترنمول کانگریس کا ردِعمل: "بنگالیوں کی شناخت کی توہین":
ترنمول کانگریس کے ترجمان اور رکنِ اسمبلی کنال گھوش نے شمیک بھٹاچاریہ کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بنگالیوں کی تاریخ اور ان کی ذاتی شناخت کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگالی تحریکِ آزادی کی تاریخ اور اپنی منفرد شناخت کے لیے دنیا بھر میں معروف ہیں۔ یہ کہنا کہ کسی کے بغیر بنگالیوں کا وجود ممکن نہ ہوتا، بالکل نا قابلِ قبول ہے۔
کانگریس اور سی پی ایم کی جانب سے شدید تنقید:
پردیش کانگریس کے صدر شبھنکر سرکار نے الزام لگایا کہ بلدیاتی انتخابات قریب ہیں، اسی لیے بی جے پی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت نفرت اور تفریق کا بیج بو رہی ہے تاکہ ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے بنگال کی تقسیم کے خلاف سڑکوں پر اتر کر یکجہتی کا پیغام دیا تھا، جبکہ بی جے پی بنگالیوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری طرف سی پی ایم کے سینئر رہنما سجن چکرورتی نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے 1905میں بنگال کو تقسیم کرنے کی سازش کی تھی جسے عوام نے ناکام بنا دیا تھا، لیکن ۱۹۴۷ میں جب عوام متحد ہو رہے تھے تو برطانوی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ دیگر فرقہ وارانہ طاقتوں نے بھی تقسیم کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے شامیق کے بیان کو تاریخی حقائق سے بعید قرار دیا۔
کولکاتا میں درگا پوجا کے اہتمام اور 'پوجا کے موافق ماحول' کو برقرار رکھنے کے لیے 'سب کے متحد ہونے' کا مشورہ دیتے ہوئے مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر اور راجیہ سبھا رکن شمیک بھٹ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments