Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تیل کے ٹینکر میں دھماکہ : ایران

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تیل کے ٹینکر میں دھماکہ : ایران

تہران، 26 جولائی: آبنائے ہرمز میں ایران کے طے شدہ راستے سے ہٹ کر چلنے کے باعث ایک تیل کا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس سے اس میں دھماکہ ہو گیا۔ ایرانی میڈیا نے اتوار کو یہ معلومات دی۔ اسی دوران، اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے بغیر اجازت حکمت عملی کے حامل اس سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چھ جہازوں کو روکے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، طے شدہ راستے سے ہٹنے کے بعد ٹینکر بحری سرنگ سے ٹکرا گیا۔ رپورٹ میں جہاز کو "قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ٹینکر" بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ طے شدہ سمندری راہداری سے ہٹنے والے جہاز اس کے نتائج کے لیے خود ذمہ دار ہوں گے ۔ رپورٹ میں جہاز کی شناخت، اس کی ملکیت، منزل، کسی بھی ممکنہ جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اس دوران، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا کہ آئی آر جی سی بحریہ نے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران چھ جہازوں کو اس وقت روک لیا، جب انہوں نے ایران کے زیرِ کنٹرول طے شدہ سمندری راستے کے باہر اور بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ نشریاتی ادارے کے مطابق، آئی آر جی سی بحری فورسز نے جہازوں کو روکنے سے پہلے تنبیہی فائرنگ کی اور ان کا راستہ بدلنے تک انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ پیش رفت آئی آر جی سی کی طرف سے ہفتے کے روز کیے گئے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے ، جس میں کہا گیا تھا کہ حکمت عملی کے حامل سمندری راستے سے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو روکا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات آبنائے ہرمز میں سکیورٹی اور جہاز رانی کو لے کر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھے تنا¶ کے درمیان ہوئے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے دنیا کے مصروف ترین سمندری راستوں میں سے ایک مانی جاتی ہے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے پچھلے مہینے پاکستان کی ثالثی میں ایک معاہدے (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے ، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ کے خلاف مبینہ امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائی کو ختم کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ایران نے 60 دنوں کی مدت کے لیے آبنائے ہرمز سے بغیر کسی فیس کے سمندری نقل وحرکت کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کے مطابق ایران نے جہازوں کے لیے ایک خاص سمندری راستہ طے کیا اور دیگر راستوں کو استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اس آبنائے میں ایک مبینہ غیر قانونی سمندری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنانے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے بعد ایران نے اس راستے کو تب تک کے لیے بند کر دیا، جب تک کہ امریکہ نے علاقائی سمندری سرگرمیوں میں مداخلت ختم نہیں کی۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments