سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ گولڈ کا تاریخی 'بل رن' ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ گولڈمین سیکس کے معروف معاشی ماہر ٹونی کم کے مطابق، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور امریکہ-ایران کشیدگی کی وجہ سے طلب میں عارضی کمی آئی ہے، لیکن آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں دوبارہ بڑی تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
مرکزی بینکوں کی خریداری اور مارکیٹ کا رجحان
تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی بنیاد ابھی بھی بے حد مضبوط ہے جس کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل اور بڑے پیمانے پر خریداری ہے۔ اسی لیے موجودہ دباؤ اور گراوٹ کو مستقل سمجھنا جلد بازی ہوگی۔ جیسے ہی جیو پولیٹیکل اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹیں گے، سونے کی قیمتوں میں نیا اچھال آئے گا۔
سرمایہ کاروں کے لیے بہترین موقع کہاں؟
ٹونی کم کے مطابق، اگر سونے کی عالمی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچتی ہے، تو یہ سرمایہ کاروں کے لیے اینٹری کا بہترین موقع ہوگا۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ قیمت تقریباً 1.34 لاکھ روپے فی اونس بنتی ہے۔ واضح رہے کہ فی الحال سونا 4,479 ڈالر فی اونس کے آس پاس ٹریڈ کر رہا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 1 ستمبر کو سونے کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی اور اسپاٹ گولڈ گر کر 4,242.20 ڈالر فی اونس پر آ گیا تھا۔
سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ گولڈ کا تاریخی 'بل رن' ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ گولڈمین سیکس کے معروف معاشی ماہر ٹونی کم کے مطابق، امریکی فیڈرل ری...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments