Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ، متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ

Admin
By Admin
Aug 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

DEREK O BRIEN KA BENGAL GOVT PAR HAMLA, KAHA. LAW AND ORDER COLLAPSE HO CHUKA HAI

نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ، متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ
نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ، متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ — August 30, 2026
نیپال میں حکام نے اتوار کو مزید سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔
حالیہ سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 788 ہو گئی ہے جبکہ 2,502 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق یہ وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع بھوٹے کوشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
اتوار کی صبح لوگوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھیجے گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔
گلچھی کے قصبے میں شہریوں کا ایک گروپ قریبی پل پر نسبتاً محفوظ اور بلند مقام پر کھڑا ہو کر دریا کے تیز بہاؤ کو دیکھتا رہا۔ شہریوں نے ان بڑے بڑے پتھروں کی جانب اشارہ کیا جو گزشتہ سیلاب کے دوران پانی کے ساتھ بہہ کر آئے تھے، جبکہ پانی کے اوپر بنے معلق پل پر موجود افراد کو سیٹیوں کے ذریعے وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی گئی۔
دریا کے کنارے کئی مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر موٹی سرمئی اور بھورے رنگ کی کیچڑ میں دبے ہوئے اب بھی دکھائی دیتے ہیں جس نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دریا کے کنارے موجود چاول کے کھیتوں کی سیڑھی نما زمین بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئی، جس کے باعث کھیتوں کے کچھ حصے دریا میں بہہ گئے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق تبت میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 246 افراد لاپتہ ہیں، جن میں سو کا تعلق نیپال سے ہے جبکہ بقایا لاپتہ افراد کا تعلق دیگر ایک درجن سے زائد ممالک سے ہے۔
نیپال میں نئی سیلابی وارننگ چینی حکام کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیے جانے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
نیپال کی ’نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی‘ کے چیف ایگزیکٹو دھرم راج اپریتی نے ’اے اپی‘ کو بتایا کہ ’چینی حکام نے دریا کے بالائی حصے میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے متعلق نیپالی حکام کو آگاہ کیا تھا۔‘
تاہم سیلاب سے متاثرہ دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سیلاب کے بعد سے مسلسل موصول ہونے والے خطرے کے پیغامات نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مقامی رہائشی گووند شریشٹھا نے بتایا کہ ’کبھی کہا جاتا ہے کہ سیلاب آنے والا ہے، پھر ہمیں دوبارہ بلند مقام کی طرف بھاگنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ رات کے وقت بھی۔ بارش بھی ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے لیے یہ واقعی بہت مشکل ہے۔ میرے والد 72 سال کے اور والدہ 70 سال کی ہیں۔ مجھے انہیں اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے اور میں تھک چکا ہوں۔ جو لوگ زندہ بچے ہیں، ان کے لیے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔‘
سیلاب کے باعث بڑے کنکریٹ پلوں اور چھوٹے رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں دریا کے دوسری جانب رہنے والی آبادیوں تک رسائی مزید مشکل ہوگئی ہے۔
47 سال کے ستن سنگھ تمانگ بدھ کو سیلاب آنے کے وقت ایک پل کے قریب کام کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جو لوگ وہاں ہیں، وہ اب وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو یہاں ہیں، وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بہت مشکل ہونے والا ہے۔‘
سیلاب سے محفوظ رہ جانے والے گھروں اور کاروباری مراکز میں بھی اتوار کو بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ بجلی کے مڑے ہوئے کھمبے اور تاریں کیچڑ میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
پرتھوی ہائی وے ملک کے مختلف حصوں سے کھانے پینے کی اشیا، ایندھن اور دیگر سامان کھٹمنڈو پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ شاہراہ کا بیشتر حصہ آمدورفت کے لیے کھلا ہے، تاہم بعض مقامات پر اب بھی مرمت اور بحالی کا کام درکار ہے۔

نیپال میں حکام نے اتوار کو مزید سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn