Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

آئیسا صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، 23 اکتوبر کو شام 6 بجے سنایا جائے گا فیصلہ

Admin
By Admin
Oct 22, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

آئیسا صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، 23 اکتوبر کو شام 6 بجے سنایا جائے گا فیصلہ
آئیسا صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، 23 اکتوبر کو شام 6 بجے سنایا جائے گا فیصلہ — October 22, 2026
نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی پر تمام فریقوں کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس سبرامنیم پرساد کی عدالت اس معاملے میں 23 اکتوبر کو شام 6 بجے فیصلہ سنائے گی۔ آئیسا کی صدر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائن نے عدالت کو بتایا کہ 15 اکتوبر کو دہلی کے کئی مختلف علاقوں میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے۔ بورا نے اسی دن پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی اور 16 اکتوبر کو شام 4 بجے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی۔ وکیل نے واضح کیا کہ اس پوسٹ میں صرف لوگوں سے منڈی ہاؤس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی، نہ کہ کسی جرم کو انجام دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ دلیل دی گئی کہ اس معاملے میں تشدد بھڑکانے، قانون توڑنے یا امن و امان خراب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بورا کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جاری احتجاج سے وابستہ نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے منڈی ہاؤس میں ایک الگ احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔ جب وہ 16 اکتوبر کو منڈی ہاؤس پہنچیں تو محض 10 سے 15 منٹ بعد ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے صرف نعرے لگائے تھے۔

دہلی پولیس کا موقف

دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) چیتن شرما نے عدالت کو بتایا کہ علاقے میں امتناعی احکامات نافذ تھے اور امن و امان خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی طور پر بورا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی کے قابل سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس عرضی پر سماعت نہیں کی جانی چاہیے۔

عرضی میں کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟

نیہا بورا نے اپنی عرضی میں الزام لگایا ہے کہ 16 اکتوبر کو حراست سے رہائی کے بعد سے سادہ لباس میں دہلی پولیس کے اہلکار ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بورا نے BNSS کی دفعات 126 اور 130 کے تحت جاری کیے گئے نوٹس پر روک لگانے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے 18 اکتوبر کو نوٹس جاری کرکے انہیں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ اس نوٹس میں تحقیقات کی مدت کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانتی پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ بورا کے وکلا نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مچلکے پر دستخط نہیں کریں گی۔ آئیسا کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس مبہم، حقائق کے برعکس اور آئین کے آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) اور آرٹیکل 21 (شخصی آزادی) کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی پر تمام فریقوں کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn