Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

بی جے پی نے ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

Admin
By Admin
Nov 07, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

بی جے پی نے ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
بی جے پی نے ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ — November 07, 2026
اس وسیع انٹرویو میں سونیا گاندھی نے اپنی جلد شائع ہونے والی کتاب Belonging: A Journey of Love کے حوالے سے دی ہندو سے گفتگو کی ہے۔ ہارپر کولنز انڈیا کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی اس کتاب کے بارے میں این رام کی جانب سے اٹھائے گئے ذاتی، تاریخی اور سیاسی نوعیت کے متعدد سوالات کے جواب سونیا گاندھی نے تحریری طور پر دیے ہیں۔

انٹرویو میں کئی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی اور ہندوستان سے وابستگی کی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیسے کیا؛ بچپن میں حاصل ہونے والی اقدار اور ہندوستان میں آکر جن اقدار کو سیکھا اور اپنایا؛ راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی سے انہوں نے کیا سیکھا اور ان دونوں شخصیات نے ان کی زندگی اور سوچ کو کس طرح متاثر کیا؛ بی جے پی-آر ایس ایس حکومت کے دور میں ملک کے سماجی تانے بانے، جمہوریت اور اداروں کو پہنچنے والے ’’بڑے نقصان‘‘ کے بارے میں ان کی رائے؛ 1975 سے 1977 کے ایمرجنسی کے دور کو انہوں نے کس نظر سے دیکھا اور اب اس پر ان کا کیا موقف ہے۔

اس کے علاوہ 1998 میں کانگریس صدر کا عہدہ قبول کرنے، 1999 میں بعض پارٹی رہنماؤں کی مخالفت کے بعد بھی اس عہدے پر برقرار رہنے اور 2004 میں وزیر اعظم بننے کی پیشکش مسترد کرنے جیسے اہم سیاسی فیصلوں پر بھی بات ہوئی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال، کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے امکانات اور کتاب کی اشاعت سے چند ہفتے قبل ہندوستان میں پبلشر کی تبدیلی کا معاملہ بھی گفتگو کا حصہ رہا۔

’آپ کی کہانی‘ دوسروں نے کئی دہائیوں تک بیان کی ہے، آپ نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا، ’اب میری باری ہے۔‘ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کی گئی میری کتابیاتی تحقیق کے مطابق کم از کم 75 کتابیں ایسی ہیں، جن میں کئی سوانح عمریاں بھی شامل ہیں، جو بڑی حد تک آپ کی زندگی کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا ایسا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ آپ کی پوسٹ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کے اپنی کہانی بیان کرنے پر ناراض یا برہم ہونے کے بجائے محظوظ ہوتی رہی ہیں۔ کیا میں درست سمجھ رہا ہوں؟ اور کیا آپ نے ان سوانح نگاروں اور دیگر مصنفین کی لکھی ہوئی ان کتابوں میں سے کوئی کتاب پڑھی ہے؟

مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنی زیادہ کتابیں ہیں! لیکن میں نے کبھی اپنے بارے میں لکھی گئی کتابیں پڑھنے کی خواہش محسوس نہیں کی۔ بہت پہلے راجیو اور مجھے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارے بارے میں جو کچھ لکھا جارہا ہے، اس پر مسلسل نظر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے، ایک وقت ایسا آیا جب مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اپنی کہانی خود بیان کرنی چاہیے۔

Belonging کے دیباچے میں آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیسے کیا۔ آپ نے اسے کسی حد تک خود پر طنز کرتے ہوئے ’شاید... ایک ایسی کہانی جسے دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہیے‘ قرار دیا ہے۔ کیا برسوں سے آپ کے بارے میں مسلسل باتیں کرنے والے لوگوں کا شور، آپ کے اندر کی کوئی آواز یا پھر دونوں چیزوں نے بالآخر آپ کو یہ ذاتی اور غیر معمولی طور پر بے باک کہانی لکھنے پر آمادہ کیا؟ اور یہ کتاب لکھنے میں، وقفوں سمیت، آپ کو کتنا وقت لگا؟

اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے کہ اب مجھے صحیح طور پر یاد نہیں، لیکن میں نے پہلی مرتبہ اس کا کچھ حصہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے لکھا تھا۔ تاہم، تقریباً پانچ سال پہلے میں نے سنجیدگی سے لکھنا شروع کیا۔ یہ مسلسل جاری رہنے والا عمل نہیں تھا۔ کبھی الفاظ اور خیالات خود بہ خود ذہن میں آتے تھے، تو کبھی کچھ بھی لکھنا ممکن نہیں ہوتا تھا اور میں مایوسی میں ہاتھ کھڑے کردیتی تھی۔

آپ نے Belonging کو ایک ذاتی یادداشت قرار دیا ہے، جس میں سیاست پس منظر یا ایک طرح کا خاکہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس کتاب کی اصل بنیاد ایک محبت کی کہانی ہے۔ راجیو اور سونیا کے درمیان پہلی ہی ملاقات میں قائم ہونے والے غیر معمولی اور گہرے محبت کے رشتے کی کہانی، جو رفتہ رفتہ ایک بہت بڑی وابستگی میں تبدیل ہوگئی۔ اس رشتے نے آپ کو اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں تک پہنچایا، پھر ہچکچاتے ہوئے عوامی زندگی اور سیاست میں داخل کیا اور بالآخر آپ کو ملک کی اہم سیاسی رہنماؤں میں شامل کردیا۔ یہ تو کسی افسانے سے بھی زیادہ حیرت انگیز کہانی ہے، ہے نا؟

جی ہاں! یہی ایک وجہ تھی کہ میں اتنے طویل عرصے تک اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن یہ صرف ہم دونوں کی محبت کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی کہانی بھی ہے کہ کس طرح مجھے راجیو کے خاندان اور اس ملک سے محبت ہوگئی، جس سے ان کا تعلق تھا، اور پھر کس طرح میں بھی اس ملک کا حصہ بن گئی۔ یہ اس بات کی کہانی بھی ہے کہ اس محبت نے مجھے عوامی زندگی میں داخل ہونے پر آمادہ کیا، جب مجھے محسوس ہوا کہ ان قربانیوں کا مقصد خطرے میں پڑ رہا ہے جو انہوں نے دی تھیں اور پارٹی کمزور ہورہی تھی۔ مجھے لگا کہ مجھے کچھ کرنا ہوگا۔

مصنف آر کے نارائن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ وقت گزرنے اور جسمانی طور پر عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ’اندر کا انسان وہی رہتا ہے‘۔ آپ اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایسے خاندان اور سماجی ماحول میں پلی بڑھیں، جو اس دنیا سے بالکل مختلف تھا، جسے بعد میں آپ نے اپنا بنایا۔ ہندوستان میں چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں تو آج آپ کی شخصیت میں اس نوجوان اطالوی خاتون کی کتنی جھلک باقی ہے؟

بچپن میں سیکھی ہوئی اقدار آج بھی میرے اندر موجود ہیں۔ میں نے ہمیشہ ان پر قائم رہنے کی پوری کوشش کی ہے۔ خاندان اور دوستوں سے وفاداری، خلوص، دوسروں کے لیے احساس، فرض شناسی اور ذمہ داری کا جذبہ۔ میرا خیال ہے کہ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ ان معاملات میں آج بھی میں وہی انسان ہوں جس سے راجیو کی ملاقات ساٹھ سال پہلے ہوئی تھی۔ البتہ اس وقت میں کہیں زیادہ مسکرایا اور ہنسا کرتی تھی!

یہ بھی پڑھیں | محبت کی کہانی کس طرح ہندوستان سے گہری وابستگی میں تبدیل ہوئی۔

راجیو گاندھی، جو آپ کی زندگی کی محبت تھے، اور اندرا گاندھی، جن کے ساتھ آپ کا انتہائی قریبی رشتہ تھا، آپ کی کہانی کی مرکزی شخصیات ہیں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھنے پر آپ ان دونوں کی کن خوبیوں کو سب سے اہم سمجھتی ہیں اور انہوں نے آپ کی زندگی اور سوچ کو کس طرح تشکیل دیا؟

جب میں ایک نوجوان دلہن کی حیثیت سے ہندوستان آئی تھی، تب مجھے ہندوستان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اور جو کچھ جانتی ہوں، وہ سب میں نے انہی دونوں سے سیکھا۔ ان کی ہمت، دوسروں کے لیے ہمدردی، ایک سیکولر اور جمہوری ہندوستان کے لیے ان کی وابستگی اور سب سے بڑھ کر فرض شناسی کا وہ جذبہ، جو ان دونوں کے لیے ہر چیز سے بڑھ کر تھا، میرے لیے باعثِ تحریک بنا۔ مشکلات اور شکوک و شبہات کے وقت اسی جذبے نے مجھے ثابت قدم رکھا۔

آپ نے لکھا ہے کہ سنجے گاندھی کا نام ایمرجنسی کا مترادف بن گیا تھا اور راجیو گاندھی اپنی والدہ کو ان شکایات اور تاثرات سے آگاہ کیا کرتے تھے، جو انہیں مختلف لوگوں سے سننے کو ملتے تھے، لیکن ان کی جانب سے کبھی کوئی جواب نہیں آتا تھا۔ کیا آپ کے خیال میں ایمرجنسی کے دوران ہونے والی مبینہ زیادتیوں سے بچا جاسکتا تھا، اگر اندرا گاندھی اپنے بڑے بیٹے اور ان دیگر لوگوں کی بات سن لیتیں، جو اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر انہیں ایمانداری سے صورتحال سے آگاہ کررہے تھے؟

صرف سنجے گاندھی ہی نہیں تھے، اگرچہ عوامی ذہن میں انہیں اکثر ایمرجنسی کا مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ان کی بعض سینئر ساتھیوں کی جانب سے بھی کافی دباؤ تھا اور میرے خیال میں ان کے آس پاس راجیو جیسے بہت کم لوگ تھے، جو مختلف نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ بالآخر میری ساس نے اپنی دانش مندی سے صورتحال کو سمجھنا شروع کیا اور اس کی اصلاح کے لیے اقدامات کیے۔

میں نے جس ایمرجنسی کا سامنا کیا اور جس کی مخالفت کی، وہ بلاشبہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔ خوش قسمتی سے مختلف پیچیدہ وجوہات کی بنا پر یہ زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہی۔ آپ نے اپنی کتاب میں ایمرجنسی کے بارے میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے اور یہ واضح ہے کہ راجیو کی طرح آپ بھی اس دور میں پیش آنے والے کئی واقعات کو ناپسند کرتی ہیں۔ کیا اسے محض ضرورت سے زیادہ مرکزیت والی حکمرانی کا ایسا دور قرار دینے کے بجائے، جمہوریت مخالف اور آمرانہ دور تسلیم کرنا درست نہیں ہوگا، جس میں کئی زیادتیاں ہوئیں؟

ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ اس دوران حقیقت میں کیا کچھ ہورہا تھا اور صورتحال کتنی سنگین تھی۔ جی ہاں، جمہوری حقوق محدود کردیے گئے تھے اور حبسِ بے جا کے خلاف عدالتی تحفظ بھی معطل کردیا گیا تھا، لیکن یہ سب آئینی طریقے سے کیا گیا تھا۔ تاہم، جب میں خود کو اس دور میں واپس لے جاکر محترمہ گاندھی کے نقطۂ نظر سے صورتحال کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات سے نمٹنے کی جدوجہد کررہی تھیں۔ پرتشدد مظاہرے ہورہے تھے، سرکاری دفاتر اور عوامی ٹرانسپورٹ کو آگ لگائی جارہی تھی، بڑے پیمانے پر منظم بدامنی پھیلی ہوئی تھی اور یہاں تک کہ بیوروکریسی اور مسلح افواج سے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

وقت گزرنے کے بعد ہم واقعات کو زیادہ بہتر تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خود محترمہ گاندھی نے حالات کو سمجھا، مارچ 1977 میں انتخابات کا اعلان کیا اور بعد میں ایمرجنسی کے دوران ہونے والی زیادتیوں پر عوامی طور پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی بھی مانگی۔

آپ کی کتاب کے بعض انتہائی دلچسپ اور بصیرت افروز حصے آر ایس ایس، بی جے پی اور سنگھ پریوار سے متعلق ہیں، جن میں آپ نے ہندوستان کے سماج اور سیاست، بالخصوص جمہوریت، سیکولرازم اور بھائی چارے جیسی آئینی اقدار کو لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں کانگریس پارٹی نے تاریخی طور پر اور حالیہ برسوں میں بھی ان بنیادی مسائل پر آر ایس ایس کی قیادت والی ہندوتوا قوتوں سے اپنا فرق واضح، مستقل اور مؤثر انداز میں ظاہر کیا ہے؟

یقیناً! میں تسلیم کرتی ہوں کہ پارٹی کے اندر کچھ لوگ ایسے رہے ہیں جو سمجھتے تھے کہ سیکولرازم کے معاملے پر ہمیں اتنا واضح اور دوٹوک موقف اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن یہ پارٹی کا موقف نہیں ہے۔ ہماری پالیسیوں اور اقدامات میں، میرے خیال میں، ہم اس آئینی حق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں، جس کے تحت ہمارے شہریوں کو بلاخوف اپنے مذہب اور عقیدے پر عمل کرنے اور عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ آپ اور وہ بالکل مختلف نظریاتی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ہندوستان کے بارے میں آپ دونوں کے خیالات بھی بہت مختلف ہیں۔ تاہم، آپ نے ان کی اس بے اطمینانی کا بھی ذکر کیا ہے جو انہیں حکمران طبقے کے حوالے سے محسوس ہوتی تھی۔ کتاب کے ایک اہم حصے میں آپ نے دہلی کے ان ڈرائنگ رومز میں اپنی بے آرامی کا ذکر کیا ہے، جہاں سیاسی خیالات ہندوستان کی حقیقی صورتحال سے بہت دور دکھائی دیتے تھے۔ آپ کے انتخابی حلقے اور ملک بھر میں آپ نے جن لوگوں کی تکالیف اور زندہ رہنے کی جدوجہد دیکھی تھی، وہ اس مراعات یافتہ طبقے کے لیے ناقابلِ تصور تھی۔

آپ یہ بھی لکھتی ہیں کہ اگرچہ مودی کے سادہ پس منظر کو ان کی تشہیری ٹیم نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہوگا، لیکن انہوں نے آر ایس ایس کے اندر ایک محروم طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی محنت سے اقتدار تک کا سفر ضرور طے کیا۔ کانگریس کو اس سے کیا سیاسی سبق حاصل کرنا چاہیے؟

یہ درست ہے کہ ان کا تعلق بالکل مختلف نظریاتی دنیا سے ہے۔ لیکن سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ کانگریس پارٹی ہی میں مثال کے طور پر ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو دیکھیے۔ میرے خیال میں ہمیں آر ایس ایس سے سیکھنے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں | ’جہاں میں حقیقتاً تعلق رکھتی ہوں‘: سونیا گاندھی کی اپنی یادداشتوں کی کتاب Belonging: A Journey of Love کے بارے میں گفتگو۔

آپ نے کانگریس رہنماؤں شرد پوار، پی اے سنگما اور طارق انور کی جانب سے آپ کی غیر ملکی پیدائش کا مسئلہ اٹھانے اور یہ دعویٰ کرنے پر اپنی تکلیف کا اظہار کیا ہے کہ آپ ہندوستان میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکتیں۔ آپ نے لکھا ہے، ’میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں اجلاس سے باہر نکل گئی۔ میں عہدہ اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاست میں نہیں آئی تھی۔ میرے کچھ ساتھی ہی تھے جنہوں نے مجھے سیاست میں آنے پر آمادہ کیا تھا اور اب وہی میرے خلاف ہوگئے تھے۔ مجھے عہدہ حاصل کرنے کے مسئلے سے تکلیف نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس بات سے ہوئی تھی کہ میری ہندوستان سے وفاداری پر سوال اٹھایا جارہا تھا۔‘

آپ نے کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن پارٹی رہنماؤں نے آپ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرلیا۔ کیا اس واقعے نے آپ کے اس عزم کو مزید مضبوط کیا کہ اگر کبھی وزیر اعظم بننے کا موقع ملا تو آپ یہ عہدہ قبول نہیں کریں گی؟

یقیناً، مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔ یہ میرے ساتھی تھے اور انہیں میرا اعتماد حاصل تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں مجھ پر اعتماد نہیں تھا۔ یہ جان کر مجھے صدمہ پہنچا کہ وہ اب بھی مجھے ایک بیرونی شخص سمجھتے تھے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اپنے کچھ اسباب بھی ہوسکتے تھے۔ لیکن یہ میری سیاسی زندگی کا ابتدائی دور تھا اور اس وقت وزیر اعظم بننے کا خیال میرے ذہن سے بہت دور تھا۔ جی ہاں، میں نے استعفیٰ دیا تھا، لیکن پھر خود احتسابی کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ذاتی جذبات کو اپنے بڑے مقصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے سکتی۔ مجھے اپنا کام جاری رکھنا تھا۔

کتاب کا تیسواں باب سیاسی اعتبار سے شاید سب سے دلچسپ اور ذاتی طور پر سب سے زیادہ جذباتی ہے۔ اس میں 2004 کے انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی کامیابی کے بعد آپ کے وزیر اعظم نہ بننے کے فیصلے کے بارے میں نئی معلومات سامنے آتی ہیں، جبکہ تقریباً ہر شخص کو توقع تھی کہ آپ یہ عہدہ سنبھالیں گی۔

عام انتخابات سے کئی ماہ قبل جب آپ کے ایک بچے نے آپ سے پوچھا تھا کہ اگر کانگریس انتخابات جیت گئی تو کیا آپ وزیر اعظم بنیں گی، تو آپ نے صاف جواب دیا تھا، ’بالکل نہیں۔‘ راہل اور پرینکا اس کے سخت مخالف تھے۔ انہیں اپنی دادی اور والد کے قتل کے واقعات کا خوف تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اس عہدے کے ساتھ غیر معمولی خطرات وابستہ ہیں۔

تاہم، پارٹی رہنماؤں کی جانب سے آپ کو عہدہ قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ہونے والی غیر معمولی سرگرمیوں کے دوران آپ نے آخرکار ’ٹھیک ہے‘ کہہ دیا، لیکن پھر اپنا فیصلہ بدل لیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔ کیا آپ کبھی سوچتی ہیں کہ اگر آپ وزیر اعظم بن جاتیں تو یو پی اے کی پالیسیاں اور کانگریس کی حکمت عملی کس طرح مختلف ہوتی؟ میں یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ آپ کو ڈاکٹر سنگھ اور اس وقت کے بیشتر کانگریس رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ سماجی جمہوریت پسند سمجھا جاتا ہے۔

نہیں، بالکل نہیں۔ یہ خیال کبھی میرے ذہن میں نہیں آیا۔ ہمارا تجربہ مجموعی طور پر کافی مثبت رہا۔ ہم نے ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کیا اور ہمارے کردار الگ الگ تھے۔ وہ حکومت کی قیادت کررہے تھے اور میں پارٹی کی قیادت کررہی تھی۔

آپ نے کتاب کے اختتامی حصے میں واضح کیا ہے کہ ہندوستان آکر یہاں شادی کے بعد اپنی زندگی گزارنے کے فیصلے پر آپ کو اپنی ذاتی زندگی میں کوئی افسوس نہیں ہے۔ آپ نے امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ جب آپ کانگریس میں شامل ہوئیں اور اس کی صدر بنیں تو آپ کو احساس ہوا کہ انسانوں کے اندر ایسی پوشیدہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، جو زندگی کی ضرورت پڑنے پر انہیں ایسے کام کرنے کے قابل بناتی ہیں، جن کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔

تاہم، آپ لکھتی ہیں کہ سیاسی سمجھوتوں کے معاملے میں آپ کو شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ نے لکھا ہے، ’اب میں خود سے سوال کرتی ہوں کہ کیا ان سمجھوتوں سے ان کے مقاصد بھی حاصل ہوئے؟ ہمیشہ ایسا نہیں ہوا۔ بعض اوقات جب یہ سمجھوتے پارٹی کے لیے فائدہ مند دکھائی دیتے تھے، تب بھی میں دل سے خوش نہیں ہوسکی۔ آج بھی وہ میری ضمیر پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔‘ یہ سمجھوتے کیا تھے؟ کیا آپ دو مثالیں دے سکتی ہیں؟

حقیقت پسند بننا ضروری ہے۔ سیاست میں بعض اوقات سمجھوتے ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ کبھی ہمیں مشکل سیاسی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، جب ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہونا پڑا جو ہمارے سیاسی نظریات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ یہ بات میرے دل کو کبھی اچھی نہیں لگی۔ لیکن ایک بات کے بارے میں مجھے مکمل یقین ہے کہ ہم نے کبھی بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کریں گے۔

آپ نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران پارلیمانی سیاست اور عوامی زندگی میں شائستگی اور تہذیب کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آپ نے اسے ’اس بے رحمی سے تعبیر کیا ہے جو آمرانہ حکومتوں کے ساتھ آتی ہے اور اختلاف کرنے والوں کو نیچا دکھانے اور انہیں اذیت پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔‘ کیا آپ کو یقین ہے کہ اگر 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہوجاتی ہے تو حالات بدلیں گے اور سیاست ایک بار پھر پالیسیوں اور پروگراموں کے مقابلے کا میدان بن جائے گی؟

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہمارے ملک کے سماجی تانے بانے، جمہوریت اور اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس حکومت کے اقتدار سے جانے کے بعد بھی ہمارے نظام کو دوبارہ صحت مند حالت میں لانے میں وقت لگے گا اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو بہت محنت کرنی ہوگی۔ لوگ اب بے چین ہونے لگے ہیں اور نقصان کو محسوس کررہے ہیں۔ لیکن میں پُرامید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کے عوام بہتر طرز حکمرانی کی واپسی کا خیرمقدم کریں گے۔

ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر کانگریس کا زوال سیاسی حقیقت ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کانگریس ہندوتوا قوتوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ 2004 سے 2014 کے درمیان پارٹی کی سیاسی صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے زوال کے رجحان کو پلٹنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ آپ نے اپنی کتاب میں کانگریس کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ آپ اس وقت پارٹی کی صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا کس طرح جائزہ لیتی ہیں؟

میں اتنی مایوس نہیں ہوں۔ اس بات پر غور کیجیے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو یکساں مواقع نہیں ملے ہیں۔ تمام اداروں، خاص طور پر الیکشن کمیشن پر ان کی مکمل گرفت، مین اسٹریم میڈیا پر ان کا کنٹرول، ان کی مالی طاقت اور مذہب کے استعمال کو بھی مدنظر رکھیے۔

اس کے باوجود ہماری پارٹی جدوجہد کررہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ درحقیقت یہ واحد پارٹی ہے جس نے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ ہمارے کارکنان اور رہنماؤں نے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ہر طرح کی مشکلات اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہر گاؤں اور ہر ضلع میں کانگریس کے کارکنان آج بھی ہمارے آئین میں درج اقدار کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

مزید یہ کہ حالیہ مہینوں میں یہ بات کافی حد تک ثابت ہوئی ہے کہ کئی انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اب لوگ اس بارے میں زیادہ بیدار ہوچکے ہیں۔ کانگریس ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور ہمارے امکانات دن بہ دن بہتر ہورہے ہیں۔

اتنی ذاتی اور سیاسی اہمیت کی حامل کتاب، جسے ہندوستان اور بیرون ملک بڑے پیمانے پر پڑھا جانا یقینی ہے، کی اشاعت سے چند ماہ قبل پبلشر کی تبدیلی غیر معمولی بات ہے۔ اگست 2026 کے اواخر میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا اب Belonging: A Journey of Love شائع نہیں کرے گا۔ ستمبر کے اوائل میں ہارپر کولنز انڈیا نے اعلان کیا کہ وہ 10 نومبر کو یہ کتاب شائع کرے گا۔

پبلشر کی تبدیلی کے بعد کافی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ ایک اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نریندر مودی، آر ایس ایس، فرقہ وارانہ کشیدگی، اقلیتوں اور چین کے ساتھ ہندوستان کے تنازع، بشمول گلوان، سے متعلق بعض حصوں پر اختلافات تھے۔ پینگوئن نے کہا تھا کہ مسودے پر اختلافات کے بعد آپ کی ٹیم نے کتاب کی اشاعت آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ کیا یہ خبر درست ہے؟ کیا یہ اختلاف کتاب کے مواد سے متعلق تھا یا اس کے پیچھے مصنف کی اظہارِ رائے کی آزادی جیسے بڑے سوالات بھی شامل تھے؟

میں ان تنازعات میں خود کو شامل کرنا پسند نہیں کروں گی۔

بی جے پی نے ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn