امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 20 ملین ڈالرز تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش کردی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ’ریوارڈز فار جسٹس‘ (انصاف کے لیے انعامات) کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے والوں کو 20 ملین ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ پروگرام 1984ء میں امریکی محکمہ خارجہ کے قومی سلامتی سے متعلق انعامی منصوبے کے تحت شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایسی معلومات کے حصول کے لیے مالی انعامات کی پیشکش کرنا ہے جو امریکی شہریوں اور مفادات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انعام سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی معاہدوں سے متعلق ذمے داریوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث ایجنسی ایران میں سینٹری فیوجز جیسے اہم پرزہ جات کی تیاری اور ان کے ذخیرے سے متعلق معلومات کے تسلسل سے محروم ہو گئی ہے تاہم، محکمہ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس نوعیت کی معلومات فراہم کرنے پر مکمل 20 ملین ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔
دریں اثناء امریکی صدر متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر تباہ کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعے کی شب ریاست فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے ایران کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا۔ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو تباہ کر دیتا۔
امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 20 ملین ڈالرز تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش کردی۔...
Source: Admin