عبدل السید کا اسرائیلی امداد ختم کرنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش
نو منتخب امریکی سینیٹر عبدل السید نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو دی جانے والی امریکہ کی امداد میں کمی یا اسے ختم کرنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے میں ’خوشی محسوس کریں گے۔‘
یاد رہے کہ امریکہ میں 3 نومبر کو منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید نے ریاست مِشی گن میں کامیابی حاصل کر کے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
عرب نیوز کے مطابق عبدل السید کے مِشی گن میں انتخاب جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے سے قبل، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی چار ارب ڈالر کی امداد ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
منگل کی صبح پروگرام ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ میں جب صدر ٹرمپ سے اس فیصلے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’انہیں اس امداد کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب اسرائیل کو اس امداد کی ضرورت ہی نہیں ہے تو پھر ہمیں السید جیسے انتہا پسندوں کی تنقید کیوں برداشت کرنی چاہیے؟‘
الیکشن میں کامیابی کے بعد بدھ کو عبدال السید نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے توہین آمیز بیانات کے باوجود اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔
نو منتخب ڈیموکریٹ سینیٹر نے جمعرات کو کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں کسی ایسی غیر ملکی فوج کو مالی معاونت جاری نہیں رکھنی چاہیے جس نے ہمارے پیسوں سے بدترین اقدامات کیے ہیں۔‘
’درحقیقت، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایسے ملک کو اسلحے فروخت جاری رکھنی چاہیے جو ہمارے فراہم کردہ ہتھیاروں کو ایک بار پھر خوفناک اقدامات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘‘‘
یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے بارہا عبدل السید کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کیپیٹل ہِل‘ کی عمارت میں داخل ہوتے وقت السید کو میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں یہاں اس بات کو یقینی بنانے آیا ہوں کہ جہادی ’اخوان المسلمون‘ کا کوئی رکن امریکی سینیٹر نہ بن سکے۔‘
عبدل السید جو آئندہ سال اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے کہ یہودیت کو اسرائیل کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں یہودیت اور یہودی عوام کو اسرائیل اور اس کے اقدامات سے الگ سمجھنا ہوگا۔ یہ ضروری ہے۔‘