سرینگر، 24 اکتوبر :نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ہفتہ کے روز بارہمولہ میں پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا ذکر کرکے ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا کردیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پڑوسی ملک کی وجہ سے ہی جموں و کشمیر کے لوگ اب تک محفوظ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دہلی سے انصاف ملنے کی امیدوں پر بھی سوال اٹھائے ۔
بارہمولہ میں منعقدہ ایک روزہ کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عبداللہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ ''آپ دہلی سے کیا امید رکھیں گے ؟ کیا آپ ان سے انصاف کی توقع کرتے ہیں؟ اگر آپ کھڑے ہوکر اپنی لڑائی خود نہیں لڑیں گے تو آپ مٹ جائیں گے ۔ آپ کا نام و نشان ختم ہوجائے گا اور کوئی آپ کو یاد بھی نہیں رکھے گا۔''
مسٹر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت بین الاقوامی دبا¶ کی وجہ سے خاموش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ''دنیا کے دبا¶ کی وجہ سے وہ آج خاموش ہیں۔ ہمارا پڑوسی مسلسل ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ وہ ہر جگہ جاکر یہ مسئلہ اٹھاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے ۔ وہ ہماری حفاظت کررہا ہے ، ورنہ ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔''
نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے نوجوانوں سے سچائی کا ساتھ دینے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آگے آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے واضح کیاکہ ''ہم ملک کے دشمن نہیں ہیں۔ ہم ملک کے ساتھ ترقی کریں گے اور ملک کے ساتھ ہی رہیں گے ۔'' تاہم، انہوں نے حکمرانوں کو اپنے طرزِ عمل میں اصلاح کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ وہ حکمرانی کے نظام میں اختیارات کے معاملے پر الجھن پیدا کررہے ہیں۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ایک سے دو سال سے فائلیں زیرِ التوا ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسی خودمختار تنظیم کی خودمختاری ختم کردی گئی ہے ۔
حلقہ بندی کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ عمل ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے انجام دیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جموں میں اسمبلی کی چھ نشستوں کا اضافہ کیا گیا، جب کہ کشمیر کو صرف ایک اضافی نشست دی گئی، جس کا براہِ راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچا۔
انہوں نے پیر پنجال اور چناب وادی کو الگ انتخابی حلقہ نہ بنانے اور راجوری و پونچھ کو اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے ساتھ جوڑنے پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔
سرینگر، 24 اکتوبر :نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ہفتہ کے روز بارہمولہ میں پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا ذکر کرکے ایک ن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments