نئی دہلی، 24 اکتوبر :مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں فوری طور پر آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طلبہ سے تحریک ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز جاری کردہ نوٹس میں طلبہ کو آن لائن کلاسوں کے شیڈول پر عمل کرنے اور کیمپس آنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انتظامیہ کے مطابق، اگلے حکم تک یونیورسٹی کے دروازے اور لائبریری بند رہیں گے ۔
دوسری جانب، یونیورسٹی کے 1500 سے زائد اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین نے کیمپس میں توڑ پھوڑ اور دیواروں پر قابل اعتراض نعرے لکھنے کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے طلبہ سے تحریک ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچانے اور ملک کی سالمیت و خودمختاری کے لیے خطرہ پیدا کرنے والے قابل اعتراض نعرے لکھنے سے جامعہ کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس کا منفی اثر طلبہ کی ساکھ پر بھی پڑسکتا ہے ، جس کے نتیجے میں مستقبل میں ان کے لیے ملازمت اور کیمپس پلیسمنٹ کے مواقع کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے امکانات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ مقررہ مقام، گیٹ نمبر 18 پر ہی احتجاج کریں۔ ساتھ ہی غالب مجسمے کے لان میں جاری دھرنے پر اعتراض بھی ظاہر کیا۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کے لیے 18 اکتوبر کو سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے طلبہ کے ساتھ چار دور کی بات چیت کی۔ اس کے بعد 21 اکتوبر کو طلبہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
انتظامیہ نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ 12 سے 21 اکتوبر کے درمیان شام 5:30 بجے تک احتجاج کے سلسلے میں طلبہ کے خلاف کی گئی یا شروع کی گئی تادیبی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، ان اقدامات کے باوجود احتجاج کرنے والے طلبہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔
جامعہ انتظامیہ کے ساتھ اساتذہ اور ملازمین نے ہفتہ کے روز احتجاجی مقام پر پہنچ کر طلبہ کو تحریک ختم کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران احتجاج کرنے والے طلبہ اساتذہ کے خلاف نعرے لگاتے رہے ۔
یونیورسٹی کے بیان میں الزام لگایا گیا کہ طلبہ نے سکیورٹی گارڈز، ملازمین اور اساتذہ کو دھکے دیے اور سینئر اساتذہ کی اپیلوں کو نظرانداز کیا۔ اس کے بعد اساتذہ اور ملازمین وہاں سے واپس چلے گئے ۔
جامعہ انتظامیہ نے کہا کہ تشدد پر مبنی جھڑپوں، اساتذہ پر حملوں اور کلاسوں میں خلل ڈالنے کے واقعات کے بعد 2006 میں طلبہ یونین کو معطل کردیا گیا تھا۔
انتظامیہ کے مطابق، طویل عرصے کے بعد موجودہ انتظامیہ نے پہلی مرتبہ طلبہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مثبت پہل کی ہے ۔
نئی دہلی، 24 اکتوبر :مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں فوری طور پر آن لائن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments