Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ، افریقا دنیا کا سب سے بڑا برِاعظم قرار

Admin
By Admin
Sep 05, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

DARJEELING MEIN HERITAGE TOY TRAIN KE LOCO SHED KI LAKRI KI CHHAT GIRNE SE HAADSA, 7, MULAZIM ZAKHMI

اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ، افریقا دنیا کا سب سے بڑا برِاعظم قرار
اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ، افریقا دنیا کا سب سے بڑا برِاعظم قرار — September 05, 2026
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایسا نیا عالمی نقشہ اپنانے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں براعظموں اور ممالک کا حجم زیادہ درست انداز میں دکھایا جائے گا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے اس نقشے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، 1 ملک نے مخالفت کی جبکہ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

یہ قرارداد ٹوگو کی قیادت میں پیش کی گئی مہم کا حصہ تھی جس کا مقصد صدیوں سے استعمال ہونے والے نقشے میں افریقا کو اس کے حقیقی حجم کے مطابق دکھانا ہے۔

موجودہ نقشہ 16 ویں صدی میں فلیمش ماہرِ نقشہ سازی گیرارڈوس مرکیٹر نے تیار کیا تھا، اس نقشے میں قطبین کے قریب موجود علاقوں کا حجم حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے، مثال کے طور پر گرین لینڈ اور افریقا تقریباً ایک ہی حجم کے نظر آتے ہیں حالانکہ افریقا گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔

نقادوں کے مطابق اس نقشے میں یورپ اور دیگر مغربی علاقوں کو غیر متناسب طور پر نمایاں دکھایا جاتا ہے جس سے نو آبادیاتی دور کے تصورات اور مغربی برتری کا تاثر مضبوط ہوتا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئے نقشے کے لیے ایکول ارتھ نقشہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو براعظموں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔

یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور سمندری و فضائی رہنمائی کے لیے مرکیٹر نقشے کے استعمال کو چیلنج نہیں کرتی کیونکہ ان مقاصد کے لیے یہ اب بھی موزوں سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا واحد ملک ہے جس نے قرارداد کی مخالفت کی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق یہ اقدام ایک نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور عالمی امن، خوش حالی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاتا ہے۔

ٹوگو کے وزیرِ خارجہ رابرٹ ڈوسی نے کہا ہے کہ منصفانہ دنیا کا آغاز منصفانہ نقشے سے ہوتا ہے۔

فرانس جو قرارداد کا شریک سرپرست تھا، پہلے ہی مرکیٹر نقشے کو ترک کرنے کا اعلان کر چکا ہے، فرانسیسی وزیرِ خارجہ یاں نوئل بارو کے مطابق نئے نقشے زیادہ درست رقبے کی عکاسی کریں گے۔

مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اب اصل کام شروع ہو گا اور درست نقشے اسکولوں، نصابی کُتب، میڈیا، کاروباری اداروں اور دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

ٹوگو نے رواں سال کے اختتام تک اپنے اسکولوں کے جغرافیہ کے مواد میں تبدیلی لانے اور دیگر حکومتوں، تعلیمی اداروں، عالمی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نئے نقشے کے استعمال پر آمادہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افریقی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مقصد افریقا کو بڑا دکھانا نہیں بلکہ اسے درست حجم کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایسا نیا عالمی نقشہ اپنانے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں براعظموں اور ممالک کا حجم زیادہ درست انداز میں دکھایا جائے گا۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn