امریکا نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی تجاویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ہر قسم کی نقل مکانی لازماً رضاکارانہ ہونی چاہیے، امریکا کی توجہ غزہ کو غیر مسلح کرنے، مستحکم کرنے اور غزہ کے رہائشیوں کے مفاد میں دوبارہ آباد کاری پر ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ کے بحران کا حقیقی حل فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بغیر ممکن نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو غزہ سے سمندر، فضاء یا کسی بھی ذریعے سے نکالنے کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر مسلسل بات چیت جاری ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی فلسطینیوں کو غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب امن کے بجائے نقل مکانی کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں غیر مسلح کاری، استحکام اور تعمیرِ نو کے ساتھ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پُرامن سیاسی مستقبل کے لیے مذاکرات بھی ضروری ہیں۔
عرب ممالک جن میں امریکا کے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں، فلسطینیوں کو ان کی سر زمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے غزہ سے تقریباً 2 ملین فلسطینیوں کو منتقل کرنے اور علاقے کو ’مشرقِ وسطیٰ کا ریویرا‘ بنانے کی تجویز دی تھی جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
امریکا نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی تجاویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments