Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Sports

ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، بوسٹن کی عدالت کے فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا

Admin
By Admin
Aug 29, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

DEREK O BRIEN KA BENGAL GOVT PAR HAMLA, KAHA. LAW AND ORDER COLLAPSE HO CHUKA HAI

ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، بوسٹن کی عدالت کے فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا
ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، بوسٹن کی عدالت کے فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا — August 29, 2026
بوسٹن (29 اگست 2026): امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ کے منصوبے پر مبنی ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے والے ضابطے پر عمل درآمد روک دیا۔

امریکا میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر جاری قانونی جنگ میں شدت آ گئی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے ڈاک ووٹنگ محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن بوسٹن کی وفاقی عدالت نے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق بوسٹن میں امریکی جج اندرا تالوانی نے جمعرات کو ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں اور ووٹنگ کے حقوق کے گروپوں کی درخواست پر ایک عارضی حکمِ امتناعی جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو ایک فیصلے میں ٹرمپ کے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے کے منصوبوں کو روکنے والے سابقہ عدالتی احکامات ختم کر دیے تھے، تاہم کئی ریاستوں نے نئے ضوابط پر عمل درآمد کے لیے وقت کی کمی کی نشان دہی کی ہے۔

اپنے فیصلے میں تالوانی نے کہا کہ اس ضابطے سے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ شہری ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنے سے محروم ہو سکتے ہیں، جب تک کہ ریاستیں اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے لفافوں کے بارے میں پوسٹل سروس سے منظوری حاصل نہ کریں اور ہر ووٹر سے متعلق معلومات ادارے کے زیرِ انتظام ایک الیکٹرانک پورٹل پر اپ لوڈ نہ کریں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد روکنے کے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے، انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے نئے قواعد انتخابی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق آئین کے تحت ریاستوں اور کانگریس کو انتخابی قوانین بنانے کا اختیار ہے، جب کہ ڈاک کے ذریعے تقریباً ایک تہائی ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

جمعرات کو جج نے فیصلے میں کہا کہ ادارے نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں دھوکا دہی کے حوالے سے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جس کی بنیاد پر اس طرح کے ضابطے کی ضرورت ثابت ہوتی ہو۔ ان کے مطابق یہ ضابطہ غالباً غیر قانونی ہے اور اسے امریکی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اختیار کیا گیا، کیوں کہ آئین ریاستوں کو انتخابات کے انتظام و انعقاد کا اختیار دیتا ہے۔

تالوانی کی جانب سے جاری کیا گیا حکمِ امتناعی 14 دن تک نافذ رہے گا، جب کہ وہ اس بات پر غور کریں گی کہ آیا ضابطے کو طویل مدت تک روکنے کے لیے ابتدائی حکمِ امتناعی جاری کیا جائے یا نہیں۔ ڈیموکریٹک صدر براک اوباما کی مقرر کردہ جج نے کہا ہے کہ وہ 3 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران اس معاملے پر غور کریں گی۔

خیال رہے کہ امریکا کی تمام 50 ریاستیں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی کسی نہ کسی شکل کی اجازت دیتی ہیں۔ ان میں سے 29 ریاستیں ووٹروں کو یہ اجازت دیتی ہیں کہ وہ کوئی وجہ بتائے بغیر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی درخواست کر سکیں، جب کہ 8 ریاستیں اپنے انتخابات مکمل طور پر ڈاک کے ذریعے منعقد کرتی ہیں۔

2024 کے انتخابات کے دوران USPS کے مطابق اس نے تقریباً 10 کروڑ بیلٹ پراسیس کیے، جب کہ ریاستوں کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 30 فی صد ووٹروں نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالا۔

بوسٹن (29 اگست 2026): امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ کے منصوبے پر مبنی ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے والے ضابطے پر عمل درآمد روک دیا۔...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn