نئی دہلی:
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہندستان میں دو نظریات کے درمیان بنیادی تصادم چل رہا ہے—ایک طرف ملک کا آئین ہے اور دوسری طرف آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ۔
راہل گاندھی نے ملک میں دلت برادری پر ہونے والے مظالم اور ناانصافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کروڑوں دلتوں کے ساتھ آج بھی معاشرتی عدم مساوات اور ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے دلتوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ صورتحال اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی ہے۔
بی جے پی پر نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے چند تلخ حقائق کا ذکر کیا: آج بھی کئی جگہوں پر چائے کے ہوٹلوں میں دلتوں کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ دلت نوجوانوں کو شادی کے موقع پر گھوڑے پر سوار ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں دلت بچوں سے صفائی کا کام کرایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس کی نظریاتی قیادت دلت برادری کی پیشرفت کو برداشت نہیں کر پاتی۔ دلت جتنے کامیاب ہوتے ہیں، ان پر اتنا ہی بڑا حملہ کیا جاتا ہے۔
راہل گاندھی نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 8 اگست 2026 کو کانگریس کے قومی صدر مکارجن کھڑگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں واقع رام لیلا میدان میں ایک بڑے عوامی جلسے کو خطاب کیا تھا۔ تاہم، جلسے کے دو دن بعد 'شری رام سینا' کے اراکین نے مبینہ طور پر اسی مقام پر 'شدھیکرن ہون' (پاکیزگی کی رسم) انجام دیا۔
راہل گاندھی نے اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دلت برادری سے تعلق رکھنے والے کانگریس صدر کی تحقیر کے مقصد سے 'شدھیکرن' کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس صدر مکارجن کھڑگے کو کامل انصاف ملنا چاہیے۔
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہندستان میں دو نظریات ک...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments