عرب میڈیا کے مطابق 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں جس کے باعث ملک میں سیاسی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق نشستوں کی تقسیم کچھ یوں ہے:
نیتن یاہو کے حامی اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں:
- لیکوڈ: 27 نشستیں
- یونائیٹڈ توراہ جوڈازم: 7 نشستیں
- اوتزما یہودیت: 7 نشستیں
- شاس: 6 نشستیں
- ریلیجیئس زائنمزم: 6 نشستیں
نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کیں:
- یاشار: 21 نشستیں
- بیاحد: 12 نشستیں
- ڈیموکریٹس: 8 نشستیں
- اسرائیل بیتینو: 7 نشستیں
عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں:
- جوائنٹ لسٹ: 11 نشستیں
- رام: 8 نشستیں
نئی حکومت بنانے کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
انتخابی نتائج کی حتمی منظوری کے بعد 4 نومبر تک صدر اسحاق ہرزوگ کو نتائج پیش کیے جائیں گے جبکہ نئی پارلیمنٹ 10 نومبر کو حلف اٹھائے گی۔
صدر ہرزوگ 11 نومبر تک کسی ایک رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے، نامزد امیدوار کو 28 دن میں حکومت تشکیل دینا ہو گی جس میں مزید 14 دن کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔
حکومت سازی کیلئے کون سے امیدوار مضبوط ہیں؟
حکومت بنانے کے لیے موجودہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے نیتن یاہو مخالف اتحاد میں سب سے زیادہ 21 نشستیں حاصل کی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت کے باعث آئزن کوٹ کو نیتن یاہو پر برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
صدر ہرزوگ بھی سیاسی جماعتوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کی حکومت بنانے کے لیے راستہ نکالیں۔
کیا عرب جماعتیں اپوزیشن کا ساتھ دیں گی؟
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ عرب جماعتیں اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوں گی یا نہیں، آئزن کوٹ اور دیگر اپوزیشن رہنما ماضی میں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم عرب جماعتوں نے نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
رام جماعت کے سربراہ منصور عباس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ آئزن کوٹ کی شرائط میری جماعت کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گی، جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے کہا ہے کہ میری جماعت نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔
عرب جماعتیں باضابطہ طور پر حکومت میں شامل ہوئے بغیر بھی پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ دلانے کے لیے اپوزیشن کی حمایت کر سکتی ہیں۔
اگر حکومت نہ بن سکی تو کیا ہو گا؟
اگر اسرائیلی صدر کے نامزد کردہ امیدوار کو 42 دن میں کامیابی نہ ملی تو صدر کسی دوسرے رکنِ پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں جسے 28 دن ملیں گے۔
دوسرا امیدوار بھی ناکام ہوا تو پارلیمنٹ کے ارکان اکثریت سے کسی تیسرے امیدوار کو نامزد کر سکتے ہیں جسے حکومت سازی کے لیے مزید 14 دن دیے جائیں گے۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستوں کی براہِ راست اکثریت ضروری نہ ہونے کی صورت میں بھی چھوٹی جماعتوں خصوصاً عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت بنائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ وزارتِ عظمیٰ کی باری باری ذمے داری سنبھالنے کے فارمولے پر بھی اتفاق ہو سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق تمام کوششیں ناکام ہونے اور سیاسی تعطل برقرار رہنے کی صورت میں پارلیمنٹ تحلیل کر دی جائے گی اور نئے انتخابات ہوں گے جو 90 دن کے اندر منعقد کروانا ہوں گے۔
نئی حکومت بننے تک اقتدار کس کے پاس رہے گا؟
نئی حکومت کی تشکیل تک نیتن یاہو نگراں وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ذمے داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
اس طرح اگر حکومت سازی کا عمل کئی ماہ تک جاری رہا تو نیتن یاہو نئی حکومت کا حصہ نہ بننے کے باوجود مزید کئی ماہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد اکثریت کھو بیٹھا ہے تاہم نیتن یاہو کی مخالفت کرنے وال...