ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر امریکہ نے ایرانی بحری جہازوں کے خلاف حملے جاری رکھے تو امریکی بحری جہازوں کے خلاف بھی مزید شدید جوابی حملے کیے جائیں گے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو تباہ کر دیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی دہشت گرد فوج کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی شرپسندانہ کارروائیاں، بدامنی پھیلانے، ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے اور ایران کی بحری ناکہ بندی کا سلسلہ روک دے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر امریکہ نے اپنے یہ اقدامات نہ روکے تو خطے میں امریکی جنگی بحری جہازوں کے خلاف ایران کی مسلح افواج کے حملے پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے اور ان کا دائرہ کار بھی مزید وسیع ہو سکتا ہے۔‘
اس سے قبل سنیچر کو امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی بحریہ کے جنگی جہازوں پر حملے کے بعد تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک ایرانی آئل ٹینکر کو جزیرہ خارگ، دوسرے کو جاسک کے قریب جبکہ ایک خالی آئل ٹینکر کو خلیج عمان میں نشانہ بنایا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق بیان میں کہا گیا حملوں میں دو ٹینکر مستقل طور پر ناکارہ ہوئے جبکہ خالی ٹینکر کو تباہ کر دیا گیا۔
’یہ ٹینکرز ایک شیڈو نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور خطے میں مسلح پراکیسز کو فنڈز فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔‘
اس سے قبل ایران نے امریکہ پر خلیج عرب میں خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی ٹینکر پر حملے کا الزام لگایا تھا۔
امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر خطے میں پیٹرولنگ کے دوران ’متعدد بلا اشتعال ایرانی حملوں‘ سے بچ گئے۔ کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔‘
امریکی فوج نے ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل کے بیڑے کو تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ہم امریکی فورسز کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اگر صرورت پڑی تو ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو بھی تباہ کردیں گے۔‘
ان حملوں سے قبل بھی امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے جبکہ اس سے قریباً ایک ماہ تک صورت حال پُرسکون رہی تھی، تاہم حملوں کی اس لہر کے بعد سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کی حکمران جماعت ریپبلکن پارٹی کو نومبر میں وسط مدتی انتخابات میں حصہ بھی لینا ہے اور اِس صورت حال میں اسے سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر امریکہ نے ایرانی بحری جہازوں کے خلاف حملے جاری رکھے تو امریکی بحری جہازوں کے خلاف بھی مزید شدید جوابی حملے کیے جائیں گے۔‘...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments