منگل کے روز ایران کے سکیورٹی سربراہ نے امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرقِ اوسط جنگ پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بعد یہ ردِ عمل سامنے آیا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے 'ایکس' پر لکھا: "'کوئی مذاکرات نہیں' سے لے کر 'ہم بات کرنے کو تیار ہیں' تک — امریکی صدر کے ملے جلے اشاروں سے گمراہ نہ ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا: "تیل اور آبنائے ہرمز سے متعلق مفادات اور خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ نقصان کو محدود کرنے کی کوششیں آئندہ حالات کو نہیں روک سکتیں۔ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بات ختم!"
ٹرمپ نے پیر کے روز ایران سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی حالانکہ قبل ازیں کئی ہفتوں تک وہ یہ کہتے رہے تھے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کا وقت نہیں آیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک 'ٹروتھ سوشل' پر کہا: "ناکام ہوتی ہوئی قومِ ایران جلد از جلد اور شدت سے معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔ میں فیصلہ کروں گا کہ ہم جس خیال کے لیے تیار ہیں، آیا امریکہ اس پر مذاکرات میں شامل ہو گا یا نہیں۔"
ایران نے جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے بارہا اپنے مطالبات دہرائے ہیں جن میں بطورِ پیشگی شرائط جنگ کے ہرجانے کی ادائیگی اور پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔
منگل کے روز ایران کے سکیورٹی سربراہ نے امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرقِ اوسط جنگ پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی جس کے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments