Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

: دو ہزار روپے تک UPI ادائیگی بالکل مفت، بڑے لین دین پر لگ سکتا ہے چارج

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

: دو ہزار روپے تک UPI ادائیگی بالکل مفت، بڑے لین دین پر لگ سکتا ہے چارج
: دو ہزار روپے تک UPI ادائیگی بالکل مفت، بڑے لین دین پر لگ سکتا ہے چارج — September 15, 2026
نئی دہلی: بھارت میں 10 روپے کی چائے سے لے کر ہزاروں روپے کی خریداری تک UPI روزمرہ کی معیشت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس پورے نظام کے پیچھے بینک، پیمنٹ سروس پرووائیڈرز، فن ٹیک کمپنیاں اور ایپ پرووائیڈرز سمیت ایک مکمل پیمنٹ ایکو سسٹم کام کرتا ہے۔ ادائیگی کے نظام کو چلانے، تکنیکی ڈھانچہ برقرار رکھنے اور سکیورٹی یقینی بنانے پر ان اداروں کی لاگت آتی ہے۔ روایتی کارڈ ادائیگیوں میں اس لاگت کی تلافی Merchant Discount Rate یعنی MDR کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔ تاہم UPI کو عام کرنے کے لیے حکومت نے طویل عرصے سے اس لاگت کو مختلف طریقے سے سنبھالا ہے۔ 2020 سے UPI اور RuPay Debit Card پر MDR کو مؤثر طور پر صفر رکھا گیا اور حکومت نے مراعات کے ذریعے اس پورے ایکو سسٹم کی مدد کی۔

2000 روپے کی حد اچانک نہیں آئی

2025 کی اسکیم میں بھی چھوٹے تاجروں کے لیے 2000 روپے تک کے UPI P2M لین دین پر Zero MDR اور 0.15 فیصد مراعات کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے 1500 کروڑ روپے کی مراعاتی اسکیم کو منظوری دی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ 2000 روپے کی حد کوئی اچانک طے کی گئی رقم نہیں، بلکہ حکومت طویل عرصے سے کم مالیت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور چھوٹے تاجروں کو فروغ دینے کے لیے اسی حد کے آس پاس پالیسی بناتی رہی ہے۔

بڑے لین دین سے آمدنی کا نیا راستہ؟

یہاں UPI کے مستقبل کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ ایک طرف حکومت عام صارفین کے لیے UPI کو مفت رکھنا چاہتی ہے، تو دوسری جانب اتنے بڑے پیمنٹ نیٹ ورک کو طویل مدت تک مالی طور پر پائیدار بنانا بھی ضروری ہے۔ اگست 2026 میں وزارتِ خزانہ نے واضح کیا تھا کہ اگر MDR نافذ کیا جاتا ہے تو اسے بڑے یا زیادہ مالیت والے مرچنٹ لین دین کے محدود حصے پر معمولی شرح کے ساتھ لاگو کیا جاسکتا ہے، جبکہ زیادہ تر مرچنٹ ٹرانزیکشنز مفت رہیں گی۔

یعنی مستقبل میں ایک ممکنہ ماڈل یہ ہوسکتا ہے کہ:

چھوٹی خریداری = مفت ڈیجیٹل ادائیگی

بڑے کاروباری لین دین = UPI کے آمدنی ماڈل کا نیا میدان

چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی راحت

کریانہ دکاندار، چائے فروش، سبزی فروش اور دیگر چھوٹے تاجر روزانہ 50، 100، 500 یا 1000 روپے کے درجنوں اور سیکڑوں ڈیجیٹل لین دین وصول کرتے ہیں۔ اگر ہر چھوٹی ادائیگی پر MDR کا بوجھ پڑتا تو اس کا براہِ راست اثر ان کے منافع پر پڑسکتا تھا۔ موجودہ نظام کا مقصد اسی لیے کم مالیت کے ڈیجیٹل لین دین کو نقد ادائیگی کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بنائے رکھنا ہے۔ زیادہ چھوٹی ادائیگیاں ڈیجیٹل ہونے کا مطلب ہے کم نقدی، بڑا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ، بہتر لین دین کی تاریخ اور رسمی معیشت کا مزید پھیلاؤ۔ یہی UPI کی بڑی طاقت بن چکی ہے۔

UPI کا نیٹ ورک کتنا بڑا ہوچکا ہے؟

حکومت کے مطابق جولائی 2026 میں UPI نے 2366 کروڑ لین دین پروسیس کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 29.9 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ UPI اب بھارت سے باہر بھی 11 ممالک میں فعال ہوچکا ہے۔ اس لیے اب سوال یہ نہیں کہ UPI کامیاب ہوگا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک کی لاگت آخر کون اٹھائے گا؟



UPI کے مستقبل کا بڑا سوال

اگر 2000 روپے تک کی ادائیگی مکمل طور پر مفت رکھنی ہے اور کروڑوں چھوٹے تاجروں کو اس نظام سے جوڑے رکھنا ہے تو حکومت کو UPI ایکو سسٹم کو مالی طور پر پائیدار بنانے کے لیے بھی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اسی لیے موجودہ فیصلے کو صرف یہ کہنا کہ ’’2000 روپے تک UPI مفت ہوگیا‘‘ پوری تصویر بیان نہیں کرتا۔ اصل کہانی یہ ہے کہ بھارت عام صارف کے لیے UPI کو مفت رکھتے ہوئے اس کے پیچھے موجود وسیع ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم کے لیے نیا معاشی ماڈل تشکیل دینے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے 2000 روپے کی حد محض ایک رقم نہیں، بلکہ بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی ماڈل کی ایک اہم معاشی اور پالیسی حد بنتی جارہی ہے۔

نئی دہلی: بھارت میں 10 روپے کی چائے سے لے کر ہزاروں روپے کی خریداری تک UPI روزمرہ کی معیشت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس پورے نظام کے پیچھے بینک، پیمنٹ سروس پرووائیڈرز، فن ٹیک کمپنیاں ا...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn