اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب پر ہندوستان نے سخت پلٹ وار کیا ہے۔ ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری پیٹل گہلوت نے ’رائٹ ٹو ریپلائی‘ کے تحت پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور دوہرے رویے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار جھوٹ دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ پیٹل گہلوت نے پاکستان کے دہشت گردی کے ریکارڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 9/11 حملوں کا ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن پاکستان کے ایبٹ آباد میں پایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت بند کرنی چاہیے اور اپنی سرزمین سے چلنے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا معاملہ اٹھانے پر گہلوت نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ انہوں نے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کے حقوق اور وہاں کی صورتحال پر توجہ دینے کی بات کہی۔ ہندوستانی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کی پالیسی جاری رہنے کی صورت میں ہندوستان اپنی سلامتی اور دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، فریب اور دوہرا رویہ پاکستان اور دنیا، دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
پیٹل گہلوت نے کہا کہ ’جنرل اسمبلی میں پاکستان کے نمائندے نے کچھ انتہائی عجیب باتیں کہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیویارک اور پوری دنیا نے تقریباً دو ہفتے قبل 9/11 کے خوفناک دہشت گردانہ حملے کی 25ویں برسی منائی ہے۔ اس تناظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ 9/11 حملے کا ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن پاکستان کی فوج کی اہم اکیڈمی کے ٹھیک قریب رہ رہا تھا۔ اور آج پاکستان کے نمائندے نے اسی فوج کی بھرپور تعریف کی۔ لیکن پاکستان میں ایسا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ خود پاکستان میں اسے ’فارم 47 حکومت‘ کہا جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے جمہوری حقوق اور انسانی اقدار پر ایسے وعظ سنے جو اس حکومت کی جانب سے آئے ہیں، جس کا دارالحکومت اس وقت اپنے ہی لوگوں سے بچانے کے لیے سیکورٹی حصار میں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ ’فوج کی، فوج کے ذریعے اور فوج کے لیے چلنے والی حکومت‘ ہے۔ حکومت میں چہرے بدل سکتے ہیں، لیکن اصل فیصلے کون کرتا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی حقیقت اس کی 27ویں آئینی ترمیم اور اس کے حقیقی حکمران کو دی گئی تاحیات قانونی چھوٹ سے بھی سامنے آتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے جمہوری حقوق اور انسانی اقدار پر ایسے وعظ سنے جو اس حکومت کی جانب سے آئے ہیں، جس کا دارالحکومت اس وقت اپنے ہی لوگوں سے بچانے کے لیے سیکورٹی حصار میں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ ’فوج کی، فوج کے ذریعے اور فوج کے لیے چلنے والی حکومت‘ ہے۔ حکومت میں چہرے بدل سکتے ہیں، لیکن اصل فیصلے کون کرتا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی حقیقت اس کی 27ویں آئینی ترمیم اور اس کے حقیقی حکمران کو دی گئی تاحیات قانونی چھوٹ سے بھی سامنے آتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے جمہوری حقوق اور انسانی اقدار پر ایسے وعظ سنے جو اس حکومت کی جانب سے آئے ہیں، جس کا دارالحکومت اس وقت اپنے ہی لوگوں سے بچانے کے لیے سیکورٹی حصار میں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ ’فوج کی، فوج کے ذریعے اور فوج کے لیے چلنے والی حکومت‘ ہے۔ حکومت میں چہرے بدل سکتے ہیں، لیکن اصل فیصلے کون کرتا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی حقیقت اس کی 27ویں آئینی ترمیم اور اس کے حقیقی حکمران کو دی گئی تاحیات قانونی چھوٹ سے بھی سامنے آتی ہے۔‘
پیٹل گہلوت نے مزید کہا کہ ہم نے جن خیالات کو سنا، وہ ایسے لوگوں کی جانب سے آئے ہیں جن کا انتہا پسندی اور نفرت کا طویل ریکارڈ رہا ہے۔ وہ دن میں سیکورٹی کی بات کرتے ہیں، لیکن رات میں دہشت گردی کو انجام دیتے ہیں۔ آج اسی جنرل اسمبلی میں مذہبی عدم برداشت پر تقریر کی گئی، جبکہ پاکستان کے نظام میں توہینِ مذہب کے قوانین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ میٹھی اور دکھاوے کی باتیں دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب پر ہندوستان نے سخت پلٹ وار کیا ہے۔ ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری پیٹل گہلوت نے ’رائٹ ٹو ریپلائی‘ کے تحت پاکستان پر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments