نئی دہلی، 9 اکتوبر: الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بعض مقامات پر افراد کی جانب سے بڑی تعداد میں اعتراضات اور دعوے درج کرانے سے پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر ان کی تعداد محدود کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
کمیشن نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ فارم 7 کے ذریعے ایس آئی آر کی پوری مدت کے دوران کوئی بھی ووٹر اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ 10 دعوے یا اعتراضات درج کرا سکے گا۔
کمیشن نے کہا کہ ایس آئی آر کے علاوہ ووٹر فہرستوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کے تحت کوئی بھی ووٹر فارم 7 کے ذریعے اپنے علاقے میں ہر ماہ زیادہ سے زیادہ 5 دعوے یا اعتراضات ہی درج کرا سکے گا۔
کمیشن نے کہا کہ ایسے معاملات میں ووٹر رجسٹریشن افسر (ای آر او) سب سے پہلے دعوے اور اعتراضات درج کرانے والوں کو نوٹس جاری کرے گا اور ہر اعتراض پر ان کا بیان ذاتی طور پر ریکارڈ کرے گا۔
ای آر او ہر اعتراض کی قانونی حیثیت سے مطمئن ہونے کے بعد ووٹر رجسٹریشن ضابطہ 1960 کے قواعد 19 اور 20 کے تحت اس درخواست کا فیصلہ کرے گا۔ اس کے لیے وہ اس شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دے گا جس کے بارے میں اعتراض درج کرایا گیا ہے ۔
نئی دہلی، 9 اکتوبر: الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بعض مقامات پر افراد کی جانب سے بڑی تعداد میں اعتراضات اور دعوے درج کرانے سے پیدا ہونے و...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments