اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے پہلے کے حالات کے بارے میں سوالات ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس بار یہ سوالات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے قریبی حلقے کے اندر سے اٹھے ہیں۔ ان الزامات کا تعلق جنگ کے پہلے دنوں کی ملاقاتوں اور فون کالوں کی دستاویزات پر مبنی سرکاری ریکارڈ کی درستی سے ہے۔
نتن یاہو کے سابق فوجی سکریٹری آوی گِل نے وزیر اعظم کے دفتر پر غزہ جنگ کے ابتدائی دنوں کی ملاقاتوں اور فون کالوں کے ریکارڈ میں ممکنہ رد و بدل کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے کے حالات کا سرکاری بیانیہ پیش کردہ حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔
آوی گِل جنہوں نے ان واقعات کے وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا، انھوں نے نے روزنامہ Israel Hayom کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ نتن یاہو کی جانب سے اسٹیٹ کنٹرولر کو پیش کی جانے والی 55 صفحات پر مشتمل رپورٹ مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں قائم ہونے والی کسی بھی تحقیقاتی کمیٹی کو تحریری منٹس (کارروائی) پر اکتفا کرنے کے بجائے اصل ریکارڈنگز حاصل کرنی چاہئیں۔
آوی گل نے مزید واضح کیا کہ جنگ شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد انہوں نے نتن یاہو کے قریبی حلقے کے افراد کی طرف سے دستاویزات کی غیر معمولی جمع آوری کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملاقاتوں اور فون کالوں کو ریکارڈ کرنے کے قوانین کی وضاحت طلب کرنے کے لیے حکومت کے قانونی مشیر سے رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد کسی خاص شخص پر ذمہ داری ڈالنا نہیں تھا، بلکہ یہ جاننا تھا کہ قانونی طور پر کیا جائز ہے اور کیا ممنوع ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ان کے اقدام کے بعد اسرائیلی پولیس نے ان شبہات پر تحقیقات شروع کر دیں جن کا تعلق وزیر اعظم کے دفتر کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جنگ کے ابتدائی دنوں کے دوران حکومتی اجلاسوں کے منٹس اور نتن یاہو سمیت دیگر حکام کی فون کالوں کی ریکارڈنگز کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے تھا۔ ان تحقیقات میں وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف تساحی براورمین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ آوی گِل نے مشکوک طور پر پیش آنے والے اس واقعے کو "مجرمانہ طرزِ عمل کا ایک نمونہ" قرار دیا۔ انھوں نے مانا کہ بعض عہدیداروں نے اس طرح برتاؤ کیا جیسے وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔
آوی نے اس امکان سے بھی خبردار کیا کہ اس دور کے منٹس میں اس بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے ترمیم کی گئی ہو جو نتن یاہو کو واحد ذمہ دار اور ایسے شخص کے طور پر پیش کرتا ہے جس نے واقعات کے آغاز سے احسن طریقے سے نمٹا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کیا ہوا تھا اس کی تصدیق کے لیے اصل ریکارڈنگز کا معائنہ کیا جانا چاہے۔
اس کے مقابلے میں لیکوڈ پارٹی نے اس انٹرویو کو "من گھڑت سیاسی پروپیگنڈا" قرار دیا جس کا مقصد نتن یاہو اور دائیں بازو کی حکومت کو گرانا ہے۔
جبکہ کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر امیر اوحانا نے سابق فوجی رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ وزیر اعظم کو معزول کرنے کے خواہاں ہیں۔ دوسری طرف، گادی آئزنکوٹ جو کہ آئندہ انتخابات میں نتن یاہو کے نمایاں ترین ممکنہ حریفوں میں شمار ہوتے ہیں، نے Haaretz اخبار کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام کو گمراہ کیا اور اسرائیلیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے پہلے کے حالات کے بارے میں سوالات ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس بار یہ سوالات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے قریبی حلقے کے اندر سے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments