پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر اور اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینی عوام کی بے دخلی سے متعلق دیے گئے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق ’اسرائیلی وزرا کے ان بیانات میں ایسے منصوبوں اور حکمتِ عملیوں کے حوالے سے تجاویز بھی شامل ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبراً بے دخل کرنا ہے۔‘
وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ایک بار پھر واضح طور پر اس امر کو مسترد اور اس کی مذمت کی کہ کسی بھی بہانے یا جواز کے تحت فلسطینی عوام کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر یا باہر بے دخل کرنے کی کوئی کوشش یا منصوبہ بنایا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جبری بے دخلی کے مطالبات کو باقاعدہ پالیسی یا ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا جن کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہو، انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایسے اقدامات امن کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں اور خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع ختم کرنے کے جامع منصوبے کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں، جس میں جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔ ایسے اقدامات خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ غزہ کی پٹی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، پر مشتمل فلسطینی علاقوں کی وحدت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ایک بار پھر یہ کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد ہے، جس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اور یہ سب بین الاقوامی جواز کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی آبادیاتی یا جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا مضبوطی سے مقابلہ کرے، جبکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر ثابت قدم رہنے کے عزم کے لیے اپنی مکمل اور مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی مسئلے کو مٹانے یا فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کو بھی مسترد کیا۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر اور اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب س...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments